تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 245
۲۳۵ ماری کے احمدیہ اللہ صاحب نے بھی مختصر تقریر کی ہے اجلاس دوم میں حضرت مصلح موعود ازاں بعدظهر و عصر کی نمازیں جمع کرانے کے بعد حضرت مصلح دیود بجے سٹیج پر تشریف لائے اور اس تاریخی جلسہ کے اختناقی کی ایمان افروز اختتامی تقریم اجلاس میں ایک نہایت ایمان افروز تقریر فرمائی۔تقریر کے آغاز میں حضور نے فرمایا۔بہت سی ایسی جماعتوں کی طرف سے پیغامات آئے ہیں جو جلسہ میں شامل نہیں ہو سکیں انہوں نے احباب کو محبت بھرا سلام کہا ہے اور دعاؤں کی درخواست کی ہے۔بسب پیغامات تو سنائے نہیں جا سکتے۔بعض اہم مقامات کے پیغامات سُنا دیتا ہوں۔نیت سے پہلا پیغام تو قادیان کی جماعت کا ہے جو وہاں کے امیر موادی عبد الر من صاحب کی معرفت موصول ہوا ہے۔اس میں وہاں کے دوستوں نے تمام اسباب کو السلام علیکم کہا ہے اور ڈھا کی درخواست کی ہے۔قادیان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا، کو قادیان سے جدا ہونے کا صدمہ بہت بڑا صدمہ ہے لیکن میں نے دوستوں کو متواتر نصیحت کی ہے کہ وہ کسی قسم کے غم کو اس سلسلے میں اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں لیکن ایک حصہ بذبات کا انسان کے ساتھ ایسا لگا ہوا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔قادیان سے نکلنا ایک ایسا ہم واقعہ ہے کہ اگر اس سلسلے میں ہم سوچنا اور غور کرنا شروع کر دیں تو ہمارے کاموں میں رشتہ پیدا ہونا شروع ہو جائے گا لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایک نہایت ہی تلخ واقعہ ہے۔نہ معلوم کوئی بندائی فرشتہ تھا جس نے مجھ سے انگلستان جاتے ہوئے یہ شعر لکھوایا کہ یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب کے پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہے قادیاں میں خدا کے فرشتوں کے ذریعہ سے اپنی طرف سے اور بہاری جماعت کی طرف سے قادریان والوں کو وَعَلَيْكُمُ السّلام کہتا ہوں۔در حقیقت وہ لوگ خوش قسمت ہیں۔آنے والی نسلیں ہمیشہ عزت کی نگاہ سے اور استرام و محبت کے ساتھ ان کے نام لیا کریں گی اور ہزاروں لوگوں کو یہ حسرت ہوا کرے گی کہ کاش ہمارے آبار کو بھی یہ خدمت کرنے کی توفیق ملتی۔اس کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل مقامات تا کسے السلام علیکم اور درخواست دعا پر مشتمل پیغامات پڑھ کر سنائے:۔- چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ امام مسجد لنڈن از طرف جماعت احمدیہ لندن له الفضل ۲۲ شہادت / اپریل مش صفحہ ۳ پر اس تقریر کا تر ہمہ چھ پر گیا تھا ؟