تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 236 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 236

تم نے دُنیا میں اموات نم رکھنا ہے تو تمہیں حکومت سے اپنے مطالبات ہمیشہ اس سے کے ساتھ منوانے چاہئیں۔اگر کسی وقت تمہیں اس حکومت پر اعتماد نہ رہے بلکہ تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہارے مذہبی احکام کے بجالانے میں روک بنتی ہے اور تم ان ظالم ڈھاتی ہے اور جبر تمہارا مذہب تم سے چھڑانا چا ہتی ہے۔تو تمہیں اس ملک کو پھوڑ دینا چاہیے۔اوسالپی حکومت کے تحت جا کہ بس جانا چا ہیئے ہو خدائی احکام کے بجالانے میں کوئی کر کے پیا ر کرتی ہو۔" ه ای تعالی قرآن کریم میں بھی موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دو شخص کامل طور پر نبی نہیں تھا تو ایک نامور من اللہ یا محمد کی حیثیت ضرور رکھتا تھا۔اس کا نام سقرالا تھا تعبد حکومت کو معلوم ہوا کہ وہ حکومت کے خلاف تعلیم دیتا ہے، تو اس پر مقدمہ چلایا گیا اور مقدمہ چلانے کے بعد ان یصلہ کیا گیا کہ اسے زہیر کا کر موت کے گھائے اُتار دیا جائے۔پرانے زمانہ میں یہ بھی حنا کا ایک مطابق تھا کہ حسیں شخص کو موت کی سزا دی جاتی تھی اسے زہر بلا کر مار دیا جاتا تھلہ سقراط کی سزا کے لئے کوئی معین تاریخ مقررہ نہ ہوئی۔ہاں یہ بتایا گیا میں دن نکلاں جہاز جو خلال جگہ سے چلا ہے اس ملک میں پہنچے ہوا تو اس کے دوسرے دن اس کو مار دیا جائے گا۔سقراط کے ماننے والوں میں بہت سے ذی الٹر لوگ بھی تھے۔وہ اس کے پاس جاتے اور اس پر نھ دیتے کہ وہ ملک کو چھوڑو ہے بعد کسی اور ملک میں جائے۔افلاطون بھی سقراط کے شاگردوں میں سے ایک شاگر د تھا۔وہ اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ ایک دن سقراط کا فرنیو، نامی مشاگردان کے پاس گیا۔وہ اس وقت میٹھی نیند سو رہے تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی اور ان جسم سے اطمینان اور سکون خداہر تھا۔فریقو پاس بیوی تھیں اور پیار سے آپ کا چہر نے دیکھا کام آپ کی اس حالت کو دیکھ کر کہ آپ نہایتہ اطمینان سے تصور ہے میں اس پر بڑا کر اللہ ہوا اس نے آپ کو جگا یا نہیں بلکہ آرام سے پاس ٹھیکہ آمید کا چہرہ دیکھتا رہا۔جب آپ کی الحمد کی تو آپ نے دکھا کہ آپ کا مرتو نامی کرد پاس بیٹھا ہوا ہے اور پیار سے آپ کی طرف دیکھ رہا ہے آپ نے اس سے پو چھا تم کب آئے ہو ! اور کسی طرح یہاں اپنے محمد فریتو نے کہا میں آپ کو