تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 230
مطالب پر حاوی ہوں۔اور ایسی سیدھی سادی زبان میں ہوں کہ معمولی زمیندار ift - بھی انہیں سمجھ سکیں وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جس کے صرف پند افراد عالم ہوں ہم نے گر ترتی کرنا ہے تو میں اپنی جماعت کے علم کے درجہ کو بلند کرنا ہوگا۔اس کا طریق یہی ہے کہ کتب کا ایک مسلمہ شروع کیا جائے جن میں دُنیا کے تمام موٹے موٹے علوم آنجائیں اور وہ بچوں، درمیانی تر ماروی اور پختہ کار لوگوں عرض سب کے لئے کافی ہوں۔اس کے تین سلسلے ہوں گے۔سلسلہ مڈل سے نیچے پڑنے والے بچوں کے لئے یا یوں سمجھ لیجیے کہ پہلا سلسلہ سال سے کم گھر والے بچوں کے لئے ہوگا۔دوسرا سید انٹرنس پاس یا سولہ ست و سال تک کے بچوں کے لئے ہوگا۔اور تیرا سلسلہ اس سے اوپر عمر والوں اور پختہ کار لوگوں کے لئے ہوگا۔یہ کتابیں ایسی تسلیس اردو میں لکھی جائیں گی کہ ایک اونے سے اد نے اردو لکھنے والا بھی اسے سمجھ سکے۔اس طرح میری رائے یہ ہے کہ یہ کہنا میں اس طرز پر لکھی جائیں کہ پہلی کتاب ۵۰ صفحات کی ہو۔دوسری ۸۰ صفحات کی تو اور تیسری کتاب اوسط سوا سو صفحات پر شمتل ہو۔اور پھر مردہ کتاب بھر سولہ سترہ سال تک کے افراد کے لئے ہو وہ سولہ ہزار الفاظ پر مشتمل ہو اور ہر وہ کتاب جو اس سے اوپر لے افراد کے لئے ہو۔وہ ۳۵ ہزار الفاظ کا عمل ہو اور اس لئے کہ لکھنے والے اللہ کتابوں کو غور سے لکھیں اور مطالعہ کر کے نکھیں ان کے لئے ایک مرتم لطور الامام مقر کی جائے گی۔تا کہ وہ اس علم کی کتا میں مطالعہ کرکے مضمون نہیں اور ایسی سلیس اردو میں لکھیں کہ ہر معمولی خواندہ اسے سکے۔میرا خیال ہے کہ ہر اس کتاب کے لئے جو پچاسی صفحات کی ہو پچاس --- - ** روپے سے ایک سوید پیر تک کا انعام رکھا جائے۔ان کتب کی خصورات یہ ہوں گی کہ ا۔ان میں تمام قسم کے علوم کے متعلق باتیں ہوں گی ۲۔یہ سلیس اردو میں ہوں گی جسے ایک معمولی اردو جاننے والا بھی سمجھ سکے۔۔ان میں کسی قسم کی اصطلاح استعمال نہیں کی جائے گی۔ان اصطلاحوں کی وجہ سے مضمون سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔۔