تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 8
جاء ليقيم الشريعة المحمدية ويحى الدين ويخدم الاسلام حتى تكون الغلبة له۔وقد الف وكتب ٨٠ كتابا حلها في تأئيد الاسلام والدفاع سے ہے۔عنه۔وبعضها باللغة العربية الفصحى۔وقد اطلعنا المبشر الضيف على نشرات مختلفة تصدرها الجماعة الاحمدية في الهند وخارجها كما اخبرنا ان افراد هذه الجماعة قاموا بدعاية واسعة لقضية فلسطين في مختلف مراكزها وخاصة في الهند۔حيث اصدار میرزا بشیر الدین رسالة باللغة الأردية يشرح فيها قضية فلسطين" له ا ترجمہ ان دنوں بر صغیر سے میرزا رشید احمد چغتائی الاحمدی مملکت شرق الاردن کے دورہ کی غرض سے دارالسلطنت عمان میں تشریف لائے ہوئے ہیں۔آپ کا تعلق جماعت احمدیہ جو اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے جس کا مرکز هندوستان میں ہے اور حبس کے موجودہ امام حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد ہیں۔یہ جماعت اعلائے کلمہ اسلام میں مصروف ہے اور اس کے افراد اور مبشرین اکناف عالم تک پھیلے ہوئے ہیں ہیں جماعت کی شاندار مساعی کے نتیجہ میں جہاں ہزاروں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں وہاں دنیا کے اکثر حصوں میں مسجدیں، مدرسے اور تبلیغی مشن قائم ہو چکے ہیں جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں : انگلستان، امریکہ ، افریقہ جاوا سماٹرا وغیرہ جزائر سہند ، چین ، جاپان، البانیہ ، فرانس، اٹلی ، سوئٹزر لینڈ وغیرہ۔یہ جماعت وس غیر ملکی زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم بھی کر چکی ہے۔دنیا بھر میں احمدیوں کی تعداد چند رلین ہے۔جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ بانی جماعت احمدیہ حضرت میرزا احمد (علیہ السلام) (جن کی ولادت سے اپر میں اور وفات نشانہ میں ہوئی ، مہدی منتظر مسیح موعود اور چودھویں صدی کے مجدد ہیں اور آپ کی آمد شریعت محمدیہ کے قیام، احیائے دیں اور خدمت اسلام کے لئے ہوئی تھی تاکہ اسے علیہ نصیب ہو۔آپ نے اتنی کے قریب کتابیں تالیف فرمائیں جو سب اسلام کے دفاع اور لجريدة " النسر "۔عمان ٤ جمادی الثانی ۱۳۶۷ هـ مطابق ۱۳ اپریل ۶۱۹۴۸ نمبر ۴۰ جلد اول