تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 176 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 176

16۔جگہ جگہ ہسپتال کھول رکھتے ہیں جہاں وہ کھلے بندوں صلیبی مذہب کا پر چارہ کرتے ہیں اور سینکڑوں مسلمانوں کو حلقہ بگوش بعیسائیت کر چکے ہیں۔اگر چہ احمدیہ مسلم من عدن پر یہ بش سے عرب کے مغربی ساحل کو عیسائیوں کی یلغار سے بچانے کے لئے ٹھوس خدمات بجا لا رہا تھا مگر مشرقی ساحل میں ان کی سرگرمیوں کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں تھا۔اور عربوں کی نئی نسل صلیبی مذہب سے متاثر ہو رہی تھی۔اور مشکل یہ تھی کہ ان علاقوں میں داخلہ پر سخت پابندیاں تھیں۔اتفاق ایسا ہوا کہ ایک احمدی دوست محمد یوسف صاحب بی۔ایس سی ہو اُن دنوں مسقط حکومت کے فوڈ آفیسر تھے لاہور آئے تو حضرت مصلح موعود کے حکم سے مولوی روشن الدین صاحب فاضل واقف زندگی کو ان کے ساتھ روانہ کر دیا۔اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ وہ ریاست میں ذریعہ معاش تلاش کریں۔انہیں اپنے اور اپنے بچوں کے اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف ۲ تبلیغ / فروری یہ مہش کو مسقط العرب میں پہنچے اور یوں نہایت بے بضاعتی کے عالم میں مسقط مشن کی بنیاد پڑی۔آپ کے تشریف لے جانے سے قبل مسقط میں تین احمدی تھے۔بلے ۱۹۴۹ له محمد عبد الحق صاحب احمدی پنشر پر و پرائٹر حق کیفی بینک روڈ مردان کا بیان ہے کہ "میرا تبادلہ اگست ۳۴داء کو پشاور سے مسقط ہو ا تھا۔بیت الضلع ایک مقام ہے جو مسقط سے کچھ فاصلہ پر ہے اور یہاں سلطان مسقط کی انفنٹری ہے۔میرا دفتر بھی وہیں تھا۔میں سب سے پہلا احمدی تھا جو وہاں گیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے ذریعہ سے سلطان کی فوج کے دو افراد احمدی ہوئے۔(1) میاں فتح محمد صاحب ہو اس وقت سلطان کی فوج کے آمر ر تھے اور جو سیالکوٹ میں جہانتک مجھ کو یاد پڑتا ہے اوچھی ٹیبی کے رہنے والے تھے پہلے احمدی ہوئے تھے اور ان کے ذریعہ ان کی اہلیہ صاحبہ بھی سیالکوٹ میں احمدی ہوئی تھیں۔یہ صاحب اب فوت ہو چکے ہیں۔(۲) جناب محمد اعظم صاحب ہو اُن دنوں سلطان کی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں ہیڈ کلرک تھے۔۔۔۔مسقط سے ۹۳۵۳لہ میں میرا تبادلہ شار جاہ ، مسقط اور کویت کے درمیان ایک قصبہ میں ہوا۔ان دنوں مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری حیفا میں تھے۔آپ سے رسالہ البشری منگوا کر یہاں لوگوں کو دیا کرتا تھا۔شارجہ میں ایک مصلحب غلام احمد صاحب احمد می رہتے تھے۔یہ صاحب سونی پت کے باشندہ تھے اور پہلی جنگ عظیم میں شیراز سے ہوتے ہوئے وہیں آباد ہو گئے تھے اور وہیں شادی بھی کی تھی۔مگر افسوس ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔وہ