تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 161 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 161

۱۵۵ کر ہیں تو میں اسے ایک زرکثیر انعام دینے کے لئے تیار ہوں۔اس تعلق میں حضور نے فرمایا۔اس مسیح موعود کے تیسرے خلیفہ کی حیثیت میں دہی چیلنج دنیا کے سامنے پھر دہراتا ہوں۔اگر دوسرے مذاہب کے رہنما میرے اس چیلنج کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں تو ہمیں خوشی ہوگی کیونکہ اس طرح پر دنیا اسلام اور بانی جماعت احمدیہ کی سچائی پر روشن نشان دیکھ لے گی بلد آخر میں حضور نے فرمایا۔میرا یہ دعویٰ ہے کہ اسلام کا خدا ایک زندہ خدا ہے اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم ایک زندہ نبی اور مسیح موعود آپ کے فرزند جلیل ہیں حضور کے اس خطاب کا ترجمہ محمود اسمعیل روش نے کیا۔فرانکفورٹ میں حضور پر نور کا قیام میشن ہاؤس میں تھا۔اس موقع پر علاوہ جرمن نو مسلموں کے بہت سے دوسرے احمدی بھی اپنے آق کی زیارت کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔دوران قیام مسٹر والٹر ہالہ نے دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔علاوہ ازیں اطالوی مستشرق ڈاکٹر کیو سی بھی بغرض ملاقات حاضر ہوئے حضور نے فرانکفورٹ میں جرمن قوم کے متعلق اپنا ایک پرانا مبشر خواب سنایا کہ ایک میگہ ہے وہاں ہنٹر بھی موجو د ہے اور وہ حضور سے کہتا ہے کہ آئیں میں آپ کو اپنا عجائب خانہ دکھاؤں بچنا نچہ وہ حضور کو ایک کمرہ میں لے گیا یہاں مختلف اشیاء پڑی ہیں۔کمرہ کے وسط میں ایک پان کی شکل کا پتھر ہے جیسے دل ہوتا ہے۔اس پتھر پہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے حضور نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرمن قوم اگرچہ او پر یہ پتھر دل یعنی دین سے بیگانہ نظر آتی ہے مگر اس کے دلوں میں اسلام قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیے حضرت خلیفہ اصبح الثالث ایدہ اللہ تعالے فرانکفورٹ کے بعد ۱۶ تا ۱۹ر وفا جولائی ہمبرگ میں کبھی رونق افروز رہے۔ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور اخبارات کے ذریعہ ملک بھر میں حضور کی آمد کا غیر معمولی چوھا ہوا اور لاکھوں افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا۔اندازاً ساٹھ ستر لاکھ نفوس کو ٹیلی ویژن کے ذریعہ تعاریف کا موقعہ ملا جو خالص خدائی تصرف تھا۔ہمبرگ میں بھی حضور کے اعزاز میں شاندار استقبالیہ تقاریب منعقد کی گئیں جس میں معززین شہر له الفضل و از ظهور را گست ایش صفحه ۴ : الفضل ، از ظهور اگست مایش صفحه ۳-۴۰ الفضل ۲۷ دفا / جولائی س ش صفحه ای :