تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 155
۱۴۹ اس روح پر در پیام کا چوہدری عبدالطیف صاحب نے ترجمہ کیا۔جس کے بعد صاحبزادہ صاحب نے ایک اثر انگیز تقریر کی جس کا جرمن زبان میں ترجمہ بھی ہچو ہدری عبد اللطیف صاحب نے کیا ہے۔آخر میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ایک پر مغز اور ایمان افروز تقریر فرمائی جس کا جرمن ترجمہ محترم عبدالکریم صاحب ڈنکر نے کیا۔تقریر کا ترجمہ ہونے کے بعد آپ نے اجتماعی دعا کرائی اور مسجد کے دروازہ پر تشریف لے جا کر دروازہ کھولا۔آخر میں چوہدری عبد اللطیف صاحب نے ظہر و عصر کی نمازیں جمع کرا کر پڑھائیں اور اس طرح یہ مبارک اہم اور تاریخی اجتماع اختتام پذیر ہوا۔اس اجتماع میں شمولیت کے لئے یورپ کے مبلغین میں سے مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب ہالینڈ سے مکرم شیخ ناصر احمد صاحب سویٹزرلینڈ سے، مکرم مولود احمد صاحب انگلینڈ سے اور مکرم سید کمال یوسف صاحب سویڈن سے تشریف لائے۔اصلی لوکل حکام ، ہندوستان لبنان اور ہالینڈ کے کونسل جنرل اور دیگر معززین شہر، پر لیں اور ٹیلی ویژن کے نمائندے شریک ہوئے تھے به امید یک تیر سے یا تبلیغ اسلام کی سرگرمیوں میں میں اضافہ ہمبرگ مسجد اور سی پریس ہوگیا وہاں جرمن سیمی پریس میں تشویش و اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی۔بعض اخبارات کی آراد ملاحظہ ہوں :- ا اخبار " LANDES ZEITUNG " نے اپنے اور جون شاہ کے شمارہ میں مہمبرگ کی مسجد ایک خطرے کا الارم " کی سرخی دے کر لکھا کہ اب اسلام میں نئی زندگی پیدا ہو رہی ہے۔اور اس مذہب کے پیروؤں نے ہمبرگ میں اپنی پہلی مسجد بھی تعمیر کر لی ہے سیکھے - اخبار " WURZBURG“ نے لکھا:۔ہمبرگ میں مسجد کی تعمیر عیسائی دنیا کی سستی اور اپنے مذہب سے بے رخی اور بے دلی پر دلالت کرتی ہے نہ کہ رواداری پر " یہ تقریر الفضل ۲۷ شہادت / اپریل ہر مہیش میں شائع ہو چکی ہے ؟ ول موگر ۲۸ امضاء ۱ جولائی ۱۳۳۶ بیش سے الفضل کار وفاء / جولائی۔روز ۱۳۳۶ ش صفحه ۳-۴ : کے رسالہ تحریک جدید جنوری ۱۱۷ صفحه ۵۸ :