تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 81
☑ کی باتیں اکثر ہنسی میں اڑا دیتے تھے اور اس ملک میں اشاعت اسلام کو ناممکن تصور کرتے تھے۔میشیح نگری گھر کی آنکھ بھی تیز ہوتی ہے۔اگر چہ اُن دنوں احمدیہ سلم ریکٹ قبر میے کی اشاعت اور احمدی میشن اپنی زندگی کے ابتدائی دور سے گند ر ہا تھا مگر مبلغین کو ملک سے بانہ نکالنے کی سہمی سازش کے چرچ نے شروع ہی میں بھانپ لیا کہ سوئٹزرلینڈ سے اُٹھنے والی اسلام کی بظاہر کمزور آواز صلیبی مذہب کے لئے صہیب خطرہ ثابت ہوگی چنانچہ جوانی مجاہدین اسلام نے قبریہ کے ٹریکٹ کی اشاعت شروع کی توجہ چ احمدی مبلغین کو ملک سے باہر نکالنے کی سازشیں کرنے لگا۔یہ وقت مجاہدین کے لئے بہت صبر آزما تھا۔ذیل میں شیخ ناصر احمد صاحب کے قلم سے اس کی تفصیل درج کی جاتی ہے شیخ صاحب نے ماہ تبلیغ / فروری : 1 : کھار پورٹ میں لکھا وہ ۶۱۹۲۸ گزشتہ سال یہاں قبر مسیح کے اعلان پر مشتمل ٹریکٹ کی اشاعت کے نتیجہ میں مخالفت کا ایک غبار اُٹھا تھا۔سخت کلامی سے لبریز خطوط ہمیں آئے۔اخبارات میں مضامین ہمارا مضحکہ اُڑانے اورشن کی مخالفت کی مرض سے لکھے گئے۔پادری طبقہ بالخصوص بوجہ اپنی نوعیت کے ہمارا مخالف ہوگیا بچنا نچہ ان ہی دنوں کی بات ہے کہ ایک پادری صاحب نے ہماری مالک مکان کو کہلا بھیجا کہ وہ حیران ہے کہ اس نے ہمیں رہنے کے لئے جگہ کیوں دے رکھی ہے۔اکتوبر کے شروع میں ہم نے جبکہ برادران غلام احمد بشیر اور چو ہدری عبد الطینی الطبيبة صاحبان ابھی نہیں تھے اپنے ویزا کی توسیع کی درخواست دی۔چار ہفتہ کے بعد ہر دو صاحبات ہالینڈ تشریف لے گئے۔قریباً چار ماہ تک اس درخواست کا کوئی جواب نہ آیا یہ پیر غیر معمول اور تشویش ناک تھی۔گزشتہ ماہ کے آخر میں خاکسار کو کسی ذریعہ سے معلوم ہوا کہ میرے یہاں قیام کی اجازت کا معاملہ چرچ کونسل کے سامنے ہے۔اس خبر میں مجھے خطرہ کی سرخی نظر آئی چنانچہ احتیاطی طور پر بعض تدابیر اختیار کیں۔۱۲ فروری کو خاکسار ایک کام کے سلسلہ میں پولیس کے دفتر میں گیا وہاں سے معلوم ہوا کہ پولیس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میری درخواست کورد کر دیا جائے اور یکم مارچ تک ملک چھوڑ دینے کے احکام مجاری کئے جائیں نادان پولیس مکین نے یہ بھی کہا کہ چونکہ آپ کا مشن پورا ہوگیا ہے اور ایک سال کا عرصہ اس کیلئے کافی ہے اس لئے آپ آپ کو چلے جانا چاہیے۔میں نے کہا کہ آپ اپنے عیسائی مشقوں کو بھی له نقل مطابق اصل