تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 77 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 77

66 کے ہمراہ، سوئٹرز لینڈ بھجوا دیا تا نہ صرف اس ملک میں پیغام حق پہنچایا جائے بلکہ جرمنی سے آنے جانے والوں میں بھی تبلیغ کا راستہ جلد گھل جائے اور جرمنی میں داخلہ کی اجازت ملتے ہی وہاں بھی احمدیہ سلم مشن کھولا جا سکے۔مجاہدین تحریک جدید کا یہ وفد ار افاد / اکتوبر کو لنڈن کے وکٹوریہ اسٹیشن سے بوقت - ۶۱۹۴۶ و بجے صبح بذریعہ گاڑی روانہ ہوا اور پیرس میں مجاہدین فرانس کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی اور مختصر قیام کے بعد ۳ار اخار اکتوبر کو دوپہر کے وقت سوئٹزرلینڈ کے مشہور شہر زیور پچ پہنچا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اس کی اطلاع ۵ارا خاد/ اکتوبر کو سفر دہلی سے واپسی پر بذریعہ تار قادیان موصول ہوئی اور اس کا تذکرہ بھی حضور نے اسی شام مجلس علم و عرفان میں اول نمبر یہ کیا نیز فرمایا۔جرمنی میں احمدیہ تبلیغی مشن قائم کرنے کے لئے بار بار کوشش کی گئی کہ احمدی مبلغین کو جرمنی میں جانے کی اجازت دی بھائے مگر امریکہ نے بھی اور برطانیہ نے بھی اجازت نہیں دی۔اس پر میں نے اپنے جرمنی جانے والے مبلغین کو ہدایت کی کہ وہ ہالینڈ چلے جائیں جو جرمنی کی سرحد پر ہے اور وہاں سے جرمنی میں بھی تبلیغ کی جا سکتی ہے۔مگر یہ کوشش بھی بہت لیبی ہوگئی۔ہالینڈ کی گورنمنٹ کو برطانوی گورنمنٹ نے بھی توجہ دلائی مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔جب میں نے دیکھا کہ یہ صورت بھی پیدا ہوتی نظر نہیں آتی تو میں نے یہ ہدایت بھیجوائی کہ سوئٹزرلینڈ کا علاقہ ایسا ہے جہاں لوگوں کی حالت اچھی ہے اور جنگ کی وجہ سے وہاں سیاسی حالات اس قسم کے پیدا نہیں ہوئے کہ نازک صورت ہو اس لئے وہاں بھانے کی کوشش کی جائے۔چونکہ پہلے یہ بات تجربہ میں آچکی تھی کہ غیر ممالک کا سکہ مشکل سے ملتا ہے اٹلی کے مبلغ اس وجہ سے سخت تکلیف اُٹھا چکے تھے اس لئے لیکن نے ہدایت کی کہ سوئٹزرلینڈ کا سینہ اتنا یا صل کر لیا جائے کہ کم از کم چھ ماہ گزارا ہو سکے اور پھر سوٹزرلینڈ کو جائیں سپین میں سجانے کا راستہ خدا تعالیٰ نے اس طرح کھول دیا کہ وہاں ایک ہندستانی رہتا تھا اس کے پاس کافی بیگہ تھا اور وہ واپس آنا چاہتا تھا اسے انگریزی سیگہ کی ضرورت تھی اتفاقا وہ ہمارے مبلغین سے ملا اور اس نے کہا اگر تمہیں ضرورت ہو تو میرے پاکس یہاں کے کافی سکتے ہیں انگریزی سیکہ سے تبادلہ کر لیں چنا نچہ تبادلہ کرلیا گیا اور اس طرح