تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 34
ملک پر کوئی نتیجہ خیز اثر نہیں ڈال سکتی تھیں مبلغ اسلام مولوی کرم الہی صاحب ظفر نے اس شدید کمی کو محسوس کرتے ہوئے پہلے ہی سال حضرت امیر المومنین الصلح الموعود کے مشہور لیکچر اسلام کا اقتصادی نظام“ کا ہسپانوی ترجمہ مکمل کیا اور اس کی اشاعت کے لئے وزارت تعلیم میں درخواست کر دی اور ساتھ ہی ماہ و خار جولائی ماہ میں اس کتاب کا انگریزی ایڈیشن محکمہ سنسر شپ میں پیش کر دیا۔۶۱۹۴۷ خیال تھا کہ چونکہ سپین کی حکومت دن رات کمیونزم کے خلاف پراپیگینڈا کر رہی ہے اس لئے اس کتاب کی اشاعت کی ضرور اجازت مل جائے گی خصوصاً اس لئے کہ اس میں دوسرے مذاہب کے خلاف ایک لفظ تک بھی موجود نہیں اور خالص مثبت انداز میں اسلام کے معاشی نظریات کی ترجمانی کی گئی تھی مگر اس معاملہ نے بہت کھول کھینچا۔ہوا یہ کہ چو ہد ری کرم الہی صاحب ظفر نے کتاب کے دیباچہ میں لکھا تھا که کمیونزم کا علاج صرف اسلام ہے سینسر والوں نے اصرالہ کیا کہ اس فقرہ سے اسلام کا لفظ کاٹ دیا جائے۔اس پر مولوی صاحب موصوف نے بعض ذمہ دار افسروں سے ملاقات کی اور بار بار در تو نہیں دیں کہ عیسائیت کا ذکر کئے بغیر اسلامی تعلیم پیش کی گئی ہے۔آخر خدا خدا کر کے خوا د کتابت کے بعد یہ معامه وزارت تعلیم تک پہنچا اور کتاب کے اس فقرہ میں کسی قدر ترمیم کے بعد کتاب شائع کرنے کی اجازت مل گئی سی پولیس نے ماہ ہجرت مئی میں اسے چھاپنا شروع کیا اور ۲۳ ماه ظهور/ اگست کو اس کا پہلا نمونہ تیار کر کے دیا۔اخبار الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کا تین ہزارنسخہ شائع کیا گیا را اور اس پر پانچ سو پونڈ سے بھی زیادہ لاگت آئی جو اصل تخمینہ سے قریباً ایک تہائی حصہ زیادہ تھی لیئے ے ان دنوں پروفیسر SAD۔JUAN BENEYTO PEREZ محکمہ سنسر شپ کے انچارج تھے جو پریس کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے اور آج کل سپین کی پریس کونسل کے صدر ہیں۔چونکہ سنسر شپ نے بہت سی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا تھا اس لئے پروفیسر صاحب ند کور نے مولوی کرم الہی صاحب نظر کو بلا کر کہا کہ خواہ مخفیف ہی ہو کوئی تبدیلی ہر حال کر دیں۔چنانچہ دنیا چہ میں جہاں یہ لکھا تھا کہ اسلام جو سب سے زیادہ سچا اور مکمل مذہب ہے " مولوی صاحب نے اسلام کے بعد جو میرے نزدیک" کے الفاظ کا اضافہ کر دیا جس پر کتاب شائع کرنے کی اجازت یل گئی۔اس سلسلہ میں PEDRO EXEMO۔S۔R۔ROCAMORA ڈائریکٹر جنرل پراپیگنڈا اور SR۔CERDERA حال حج سپریم کورٹ سپلی و مبر رائل مارل اور پولیٹکل سائنس اکیڈیمی کے عمیر) نے گرانقدر امداد دی۔یہ کتاب AFRO Dicio AGUA Do پریس میں چھپی ہے سے سپین مشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کتاب دمع ترجمہ کی قیمت کے تقریباً چار سو پونڈ انفراجات ہوئے تھے