تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 445
۴۴۰ کہیں میں رہائش سے اس لئے انکار نہ کر دوں کہ یہاں مسجد نہیں۔چنانچہ میں نے کہا اچھا مجھے مسجد دکھاؤ اُسنے مجھے مسجد دکھائی جو نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی، چٹائیاں اور دریاں وغیرہ بھی کچھی ہوئی تھیں اور امام کی جگہ ایک صاف قالینی مصلی بچھا ہوا تھا۔اس پر میں خوش ہوا اور میں نے کہا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسجد بھی دے دی ہے میں اس وقت سمجھتا ہوں کہ ہم تنظیم کے لئے آئے ہیں اور تنظیم کے بعد دشمن کو پھر شکست دے دیں گے لے ) اب ہم اسی جگہ رہیں گے۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ باہر سے آئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ بڑی تباہی ہے بڑی تباہی ہے اور جالنہ بھر کا خاص طور پر نام لیا کہ وہاں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے۔پھر انہوں نے کہا ہم نیلے گنبد میں داخل ہونے لگے تھے مگر ہمیں وہاں بھی داخل نہیں ہونے دیا۔اس وقت تک تو ہم صرف لاہورکا ہی نیا گنبد سمجھے تھے مگر ان میں غور کرنے پر معلوم ہوا کہ نیلے گنبد سے مراد آسمان تھا اور طلب یہ تھا کہ کھلے آسمان کے نیچے بھی مسلمانوں کو اس نہیں ملے گا۔چنانچہ لوگ جب اپنے مکانوں اور شہروں سے نکل کر ریفیوجی کیمپوں میں جمع ہوتے تھے تو وہاں بھی سکھے ان پر حملہ کر دیتے تھے اور ان میں سے یہ پیسے لوگوں کو مار ڈالتے تھے۔اس رؤیا کے مطابق یہ جگہ مرکز کے لئے تجویز کی گئی ہے۔جب یکی قادیان سے آیا تو اس وقت یہاں اتفاقاً چوہدری عزیز احمد صاحب احمدی سب حج لگے ہوئے تھے میں شیخوپورہ کے متعلق مشورہ کر رہا تھا کہ چوہدری عزیز احمد صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے اخبار میں آپ کی ایک اس رنگ کی خواب پڑھی ہے کی سمجھتا ہوں کہ چنیوٹ ضلع جھنگ کے قریب دریائے چناب کے پار ایک ایسا ٹکڑا زمین ہے جو اس خواب کے مطابق معلوم ہوتا ہے، چنانچہ لیکن یہاں آیا اور میں نے کہا ٹھیک ہے خواب میں جوئیں نے متمام دیکھا تھا اس کے ارد گرد بھی اسی قسم کے پہاڑی ٹیلے تھے صرف ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ میں نے اُس میدان میں گھاس دیکھا تھا مگر یہ چٹیل میدان ہے۔اب بارشوں کے بعد کچھ کچھ سبزہ نکلا ہے ممکن ہے ہمارے آنے کے بعد اللہ تعالیٰ یہاں گھاس بھی پیدا کر دے اور اس رقبہ کو سترہ دار بنا دے۔ہر حال اس رؤیا کے مطابق ہم نے اس جگہ کو چنا ہے اور یہ رویا وہ ہے جس کے ذریعہ چھ سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ہمیں آئندہ آنے والے واقعات سے خبر دے دی تھی۔دنیا میں کون ایسا انسان ہے جس کی طاقت میں یہ بات ہو کہ وہ چھ سال پہلے آئندہ سے یہ فقرہ ہو نئے مرکز کی غرض و غایت واضح کرتا ہے حضرت مصلح موعور نہ کی اصل خواب مطبوعہ الفضل ۲۱ دسمبر ۱۹۲۳ء میں جو درج ہے ( ناقل) سے آپ آپ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ ہیں ؟