تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 25
۲۵ ہی دنیا میں قیام امن کا ذریعہ ثابت ہو کر دنیا کی مشکلات دور کرنے کا باعث بنے۔ملک عطاء الرحمن صاحب نے ۲۹ ماہ نبوت / نومبر کو علی ارشاد تعلیم الاسلام کالج کے 1981- زیر اہتمام ایک تقریر میں اہل فرانس کے اس ملے جلے رو عمل تفصیل سے روشنی ڈالی تو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کا لج دایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ملک عطاء الرحمن صاحب کی تقریر سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں آج اسلام کسمپرسی کی حالت سے نکل کر عیسائیت پر حملہ آور ہونے کے قابل ہو گیا ہے۔آج جو مذاہب مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسلام پر حملہ آور ہو رہے ہیں وہ خود ان کے خیالی معیار پر پورے نہیں اترتے پس ہمیں اسلام کے خلاف صدیوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کر کے ایسے حملہ آوروں کو بتا دینا چاہیے کہ وہ خود کتنے پانی میں ہیں ؟ جب ہم اسلام کی اصل تصویر اور ان کے اپنے مذاہب کی موجودہ ہیئت کذائی انہیں دکھانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو وہ کھرے کھوٹے میں خود تمیز کر کے اسلام قبول کر لیں گے ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو اسلام کے منور چہرے سے روشناس کراتے چلے جائیں اور ساتھ ساتھ دوسرے حملہ آور مذاہب کا چہرہ بھی انہیں دکھاتے رہیں جب دونوں تصویریں بیک وقت دُنیا کے سامنے آکر ذہن نشین ہو جائیں گی تو یہ خُلُونَ فی دِینِ اللهِ افواجا کا نقشہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے پس اگر آئندہ بین تین ابر مس تک نو مسلموں کی تعداد میں اضافہ نہ بھی ہو تب بھی ہمیں اسلام اور دیگر نا ہمیں کا اصل چہرہ دکھانے میں مصروف رہنا چاہیئے جس دن یہ کام باحسن وجوہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اسی دن دنیا دیوانہ وار اسلام کی طرف دوڑ پڑے گی اور ہمیں اپنی تمام مساعی کا اچانک ثمرہ مل جائے گا یا کہ + الفضل ۱۳۰ ماه نبوت / نومبر ۱۳۳۰ راشد ۶۱۹۵۱