تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 377
۳۷۴ چیف سیکرٹری جماعت احمدیہ نے اس بے بنیاد خبر کی تردید میں فوراً یہ بیان جاری کیا کہ :- یہ خبر بالکل بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔جماعت احمدیہ اور سکھ لیڈروں کے درمیان اس قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ اس قسم کے باہمی سمجھوتہ کی کوئی تجویز کی گئی ہے۔قادیان کے تحفظ کے متعلق جماعت احمدیہ نے جو کچھ کہنا تھا وہ ایک میمورنڈم کی صورت میں مرتب کر کے مرکزی حکومت پاکستان شعبہ پناہ گزیناں کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے اس میمورنڈم میں ننکانہ صاحب کا کوئی ذکر نہیں اور نہ جماعت احمدیہ نے اس بارہ میں سیکھ لیڈروں کے ساتھ براہ راست کوئی بات کی ہے افسوس ہے کہ اخبار پر تاآپ نے اس من گھڑت خبر کے شائع کرنے میں صداقت سے کام نہیں لیا اور ایک فتنہ کا بیج بونے کی کوشش کی ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنی بعض پبلک تقریروں میں بھی کئی دفعہ حکومت کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مذہبی مقامات مثلاً سرہند اور اجمیر اور قادیان وغیرہ کے بارہ میں ہر دو حکومتوں کے درمیان کوئی باعزت سمجھوتہ ہونا ضروری ہے یا لے _ پرتاپ جیسے اسلام دشمن اخبار کا مقصد اس سراسر غلط اور جھوٹی خبر کے ذریعہ سے مسلمانان پاکستان میں قلبی انتشار پیدا کر کے اُن کی ایک جہتی اور اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور مسئلہ کشمیر کی سرد جنگ کو جیتنا تھا۔جماعت احمدیہ کے مرکز نے اس خطرناک سیال کو بر وقت بھانپ کر اصل حقیقت سے پردہ اُٹھا دیا مگر اس کے باوجو د لبعض پاکستانی اخبارات نے پاکستان اور احمدیوں کو زک پہنچانے کے لئے ہند و پریس کی خبر اُچھالنا شروع کر دی۔اس افسوسناک حرکت پر اخبار سفینہ، لاہور نے حسب ذیل اداریہ سپر د قلم کیا :- کشمیر کے متعلق ہو۔این۔اومیں جونئی صورت حال پیدا ہو گئی ہے اس پر ہر سلمان کو تشویش ہے اور ہماری رائے میں یہ سب کچھ اس لئے نہیں ہوا کہ اس بارے میں پاکستان یا پاکستان کے نمائندوں کا موقف بدل گیا ہے بلکہ یہ سب کچھ ہندوستان کے سیاسی چال بازوں نے صورتِ سال کو بھانپ کر اور مختلف ذرائع سے کام لے کر کیا ہے لیکن مسلمانان پاکستان کی بد قیمتی ملاحظہ ہو اه ۲۳ اپنے له الفضل ۲۳ اما این / مارچ ها ۶۱۹۴۸