تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 376 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 376

قادیان سے ایک سجن لکھتے ہیں یہاں لگ بھگ تین سو پچاس قادیانی رہتے ہیں جن میں ورتمان خلیفہ مرزا البشیر الدین محمود کے دو متر ظفر احمد بیرسٹر اور خلیل احمد بھی ہیں۔انہوں نے ۱۲۶ ۱۲۷ ۲۸ دسمبر کو اپنا وار شک انسو منایا جس میں وہ تمان خلیفہ کا ایک پتر بھی سنایا گیا خلیفہ نے اپنے پتر میں اپنے پیروؤں کوی تسلی دی تھی کہ وہ اپنے دوسرے پیروؤں سمیت جلد قادیان واپس آئیں گے۔یہاں موجود قادیانیوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ جنوری کے پہلے ہفتہ میں ہمارا گنوائے آنے والا ہے جس میں کچھ قادیانی آئیں گے اور وہ یہاں سے قادیانیوں کو لے بھی جائیں گے۔جو ساڑھے تین سو کے قریب قادیانی یہاں ہیں انہوں نے اتنی جگہ گھیر رکھی ہے کہ اس میں ساڑھے تین ہزار منش آسانی سے سما سکتے ہیں۔ان کے کالج وغیرہ کی عمارتیں بھی اس وقت تک خالی پڑی ہیں۔اگر انہیں اپنے خلیفہ کے پاس پاکستان بھیج دیا جائے تو دس ہزار اشخاص کے لئے جگہ نکل سکتی ہے۔کیا آپ مشرقی پنجاب گورنمنٹ کو خبردار کر دیں گے۔سوتے کو تو جگایا جا سکتا ہے جاگتے کو کون جگائے۔ہماری سرکار مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کہ یہاں لارہی ہے، انہیں پاکستان کو کیا بھیجے گی خلیفہ قادیان نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں مشرقی پنجاب جائیں اور وہاں آباد ہو جائیں۔اس سلسلہ میں یہ خبر بھی پڑھ لیجئے۔۳۔دسمبر کو قادیان میں پانچ دونالی بندوقیں ۳۴۰ بم ، تین امریکن ہم اور بہت سا بارود بر آمد ہوا ہے (کرشن) " پر تآپ نے اس اشتعال انگیز مضمون کے چند ماہ بعد اعلین اس وقت جبکہ اقوام متحدہ میں مسکر کشمیر پر بحث غیر معین عرصہ کے لئے ملتوی ہو چکی تھی اور ہندوستان نواز حلقے پاکستان کے خلاف ایک نئی اور سراسر مضر اور نا قابل قبول قرار داد پیش کر نے والے تھے ، اپنی 19 مارچ شکار کی اشاعت میں یہ منتر یا نہ خبر شائع کی کہ امام جماعت احمدیہ قادیان اور سکھ لیڈروں کے درمیان قادیان اور ننکانہ صاب کے متعلق ایک سمجھوتہ کی بات چیت ہو رہی ہے جس کی رو سے قادیان کا علاقہ احمدیوں سے دوبارہ آباد کر دیا جائے گا اور نکانہ صاحب کا علاقہ سکھوں سے دوبارہ آبا د کیا جائے گا اور یہ کہ قادیان او ننکانہ صاحب تک کے لئے ہر دو دریت کا راستہ معین کر کے حکومت پاکستان اور حکومت ہند کے مشتر کہ انتظام میں رکھا جائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔