تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 368 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 368

۳۶۵ فادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کی فسادات پنجاب سود کی تحقیقاتی عدالت کے فاضل کی لکھتے ہیں :۔۔رپورٹ میں تذکرہ ججان جسٹس محمد منیر اور ایم آر کیانی نے اپنی رپورٹ میں اس حاوثہ دل گدازہ کا ذکر خاص طور پر کیا۔چنانچہ میجرمحمود کا قتل مرزا بشیرالدین محمد احمد شاہ کے موسم گرما میں بمقام کوٹہ مقیم تھے۔ان کی موجودگی میں، ایک نوجوان فوجی افسر میجر محمد د جو احمدی مقا نهایت وحشیانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ریلوے کے مسلم ملازمین کی ایسوسی ایشن نے ایک جلسہ عام کا اعلان کیا تھا جوا اور اگست ۱۹۲ء کو منعقد ہوا۔اس جلسے میں بعض مولویوں نے تقریریں کیں اور ہر شخص نے اپنی تقریر کے لئے ایک اپنی موضوع یعنی " ختم نبوت اختیار کیا۔ان تقریروں کے دوران میں قادیانیوں کے کفر اور اس کے نتائج کی طرف بار بار اشارے کئے گئے۔ابھی یہ جلسہ منعقد ہو رہا تھا کہ میجر محمود ایک مریض کو دیکھنے کے بعد واپس آتے ہوئے جلسہ گاہ کے پاس سے گزرے۔اتفاق سے ان کی موٹر کار جلسہ گاہ کے قریب ٹھہر گئی اور اس کو دوبارہ چلانے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی۔عین اس موقع پر ایک ہجوم موٹر کار کی طرف بڑھا اور اس نے میجر محمود کو گھسیٹ کر نیچے اُتار لیا میجر محمود نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ان کا تعاقب کیا گیا اور آخر پتھر اور چھرے مار مار کر ان کو ہلاک کر دیا گیا۔اُن کی پوری انٹریاں پیٹ سے باہر نکل آئی تھیں۔ان کی نعش کے پوسٹ مارٹم معائنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جسم پر گند اور تیز دھار والے ہتھیاروں سے لگائے ہوئے چھتیس زخم تھے۔اور موت ایک تو جھوٹے سے اور دوسر داخل جریان خون سے واقع ہوئی جو بائیں پھیپڑے بائیں گردے اور ٹیگور کے دائیں کنارے کے زخموں سے بھاری ہوا تھا۔کوئی شخص بھی اسلامی شجاعت کے اس کارنامے کی نیک نامی لینے پہ آمادہ نہ ہوا اور بے شمار معینی شاہدوں میں ایک بھی ایسا نہ نکلا جو ان غازیوں کی نشان دہی کر سکتا یا کرنے کا خواہش مند ہوتا جن سے یہ بہادرانہ فعل صادر ہوا تھا۔لہذا اصل مجرم شناخت نہ کئے جاسکے اور مقدمہ بے سراغ ہی داخل دفتر کر دیا گیا ہے لے اصل واقعہ ار کی بجائے 19 اگست کا ہے۔(مولعنه) ، سے ترجمہ رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ ص و ص ہے کے ''