تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 334
٣٣٣ استقبال کے لئے موجود تھا۔بہت سے غیر احمدی معززین بھی تشریف لائے ہوئے تھے اور با وجود اس کے کہ گاڑی چار گھنٹہ لیٹ پہنچی وہ اسٹیشن پر ہی حضور کی تشریف آوری کا انتظار کرتے رہے۔جماعت احمدیہ کوئٹہ کے تمام افراد اپنے امیر کے حکم کے ماتحت مختلف صفوں میں کھڑے تھے۔سب سے پہلے میاں بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ کوئٹہ حضور سے ملے اور پھر شہر کے معززین سے انہوں نے حضور کا تعارف کرایا۔اس کے بعد حضور نے سب دوستوں سے مصافحہ فرما یا ٹیشن نہ ائرمین سے بھرا ہوا تھا اور پولیس کے آفیسر بھی خاص طور پر مصروف انتظام تھے۔مکرم شیر علی صاحب پری زیندانی پولیس ریلوے اس تمام انتظام کے انچارج تھے جنہوں نے نہایت سرگرمی کے ساتھ اپنے فرائض کو ادا کیا۔مقامی جماعت نے اسٹیشن پر چھور اور حضور کے اہل بیت کے لئے کافی تعداد میں کاروں کا انتظام کیا ہوا تھا نے حضور مصافحہ کے بعد کا ر میں سوار ہو کر اپنی قیام گاہ بنام پارک ہاؤس" کی طرف تشریف لے گئے۔اس موقع پر حضرت ام المومنین اور اپنے اہل بیت کو کو ٹھی تک پہنچانے کا کام حضور نے جہتہ عبد القادر صاحب قادیانی کے سپرد فرمایا جنہوں نے والہانہ جوش کے ساتھ یہ فرض ادا کیا۔راسی طرح دیگر افراد جماعت نے بھی کمال و سپی، خلوص اور تنظیم و اطاعت کی روح سے سرشار ہو کر مختلف انتظامات پائیہ تکمیل تک پہنچا دئیے۔لے یہاں پہنچنے کے بعد جماعت احمدیہ کوئٹہ کے جماعت احمدیہ کوئٹہ کی طرف سے مہمان نوازی افراد نے تین دن حضور اور حضور کے اہل بیت اور اقدام کی مہمان نوازی کے فرائض سر انجام دیئے۔اس بارہ میں جماعت کا حسین انتظام ہر لحاظ سے قابل تعریف تھا۔کھانے کا انتظام کوئٹہ کی جماعت نے مہتہ عبد القادر صاحب قادیانی کے سپرد کیا ہوا تھا جنہوں نے اپنے ساتھ مختلف سرگرم و النٹیرز شامل کر کے اس خدمت کو احسن طریق سے سر انجام دیا۔کھانے کے علاوہ پھلوں اور مٹھائی سے بھی مختلف اوقات میں جماعت احمدیہ کوئٹہ کی طرف سے تواضع کی گئی۔اگر کوئی دوست بیمار ہوتا تو اس کے لئے خاص طور پر الگ پر ہیزی کھانا تیار کیا جاتا عرض تین دن جماعت احمدیہ کوئٹہ کے ہر فرد نے حضرت امیر المومنین ، خاندان بسیح موعود مه یا انتظام ملک کرم الہی صاحب ایڈووکیٹ کے سپرد تھا : له الفضل ۲۵- احسان ۱۳۲۷ ص۲۰۳