تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 328
۳۲۸ مجھے اطلاع ہوئی کہ جلسہ ہو رہا ہے۔لیکن دکان بند کر کے اپنے والد صاحب (جو مدرس ہیں ) کے پاس پہنچا اور ان سے جا کر کہا کہ اس طرح جلسہ ہو رہا ہے اس کے خلاف ہمیں بھی سینما کے سامنے جلسہ کرنا چاہیے۔وہ تیار ہو گئے مجلس احرار والے بھی اس جلسہ کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاریوں میں تھے ان کا سیکرٹری بھی ہمارے ساتھ ہو لیا اور ہم تینوں جامع مسجد میں خطیب صاحب کے پاس پہنچے۔ان کو بھی اپنے ساتھ متفق کر کر لیا اور شام کی نماز کے بعد بجامع مسجد میں دو تقریریں ہوئیں جن میں مرزائیوں کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا یا گیا بہت سے لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہم ایک جلوس کی شکل میں نعرے لگاتے ہوئے سینما کی طرف چلے۔راستہ میں کچھ پٹھان ملے انکو بھی ہم نے اپنے ساتھ شامل کر لیا۔اس طرح لوگوں کو ساتھ ملاتے ہوئے ہم سینما کے سامنے پہنچ گئے سیکیم یہ تھی کہ سڑک پر مرزائیوں کے خلاف تقریریں کی جائیں اور یہ شور مچایا جائے کہ پبلک مرزا صاحب کے ساتھ نہیں ہے علماء جو ساتھ تھے وہ سڑک سے ڈرا دور ہو کر کھڑے ہو گئے تاکہ ان کا علم نہ ہو سکے۔کالج کے لڑکوں کو آگے کر کے اُن سے خوب نعرے لگوائے گئے اور گندی سے گندی گالیاں جس قدر ہم دے سکتے تھے دیں۔مرزا صاحب تقریر کر کے دوسری طرف سے کاریں بیٹھ کر چلے گئے اُن کے مُرید کا رپر لیٹے ہوئے تھے کہ اگر حملہ ہو تو ہم پر ہو۔یہ بہت بڑا قربانی کا جذبہ ہے جو مرزا صاحب کے مریدوں میں پیدا ہو چکا ہے۔یں نے سینما کے سامنے جو دکاندار ہیں اُن سے دریافت کیا اور بہت سے لوگوں سے بھی دریافت کیا کہ یہ جو مسلمانوں نے سینما کے سامنے مظاہرہ کیا ہے اور نعرے لگائے ہیں ان کے متعلق ان کی کیا رائے ہے۔سب نے یہی کہا کہ انہوں نے بڑا کام کیا ہے یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں۔مرزا صاحب ہی تو آج کل کام کر رہے ہیں اور پھر یہی ہیں جو قادیان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔لے 4 ه الفضل ۷ار شہادت / اپریل ها