تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 327
ضربات آئیں اسی طرح لاہور کے ایک دوسرے روزنامہ غازی نے "احمدیوں کی وجہ سے لاٹھی بازی راولپنڈی کے مسلمانوں پر جبر کے عنوان سے حسب ذیل اشتعال انگیز خبر شائع کی :- راولپنڈی ۱۵ر اپریل - کل نشاط تھیٹر زمیں (مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ) تقریر کر رہے تھے کہ با ہر خا لفین کے ایک ہجوم نے طوفان بر پا کر دیا۔پولیس کو ہجوم پر لاٹھی چارج کرنا پڑی میں میں چند افراد زخمی ہوئے۔مخالف لیڈروں نے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو عام جلسے منعقد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے مسلمانوں کی قیادت مولانا مولا نیش صاحب امام جامعہ پنڈی نے کی ا سکے یہاں طبیعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی الفضل کے نامہ نگار خصوصی کی رپورٹ ایمان اور تری میں جوپاکستان اور سلمان علم کی ترقی و بید و پر مبنی مسائل سے متعلق تھی کسی قسم کی شورش انگیزی کا جواز ہی کیا ہو سکتا تھا ؟ اس اہم سوال کا جواب الفضل کے نامہ نگار خصوصی کی درج ذیل رپورٹ سے بخوبی مل سکتا ہے۔لکھا ہے :۔راولپنڈی میں حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کا لیکچرنت و سینما میں ہوا تو اس موقع پر جن لوگوں نے شور کیا تھا اور نعرے لگائے تھے ان کے متعلق میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ معلوم کرنا چاہیئے کہ آخر یہ کسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔یہاں مری روڈ پر جماعت اسلامی۔۔۔کا دفتر ہے ان کے متعلق بھی یہ کہا جاتا ہے کہ اس پارٹی کے ارکان بھی اس مظاہرہ میں شامل تھے۔یہ معلوم کرنے کے لئے کہ یہ بات کہاں تک ٹھیک ہے خاکسار ان کے دفتر گیا مگر دفتر بند تھا۔اس دفتر کے پاس ایک دکاندار ہے لیکن اور ایک اور ہر رہی وہاں بیٹھ گئے۔باتوں باتوں میں دکاندار سے کہا کہ سُنا ہے کل مرزائیوں کا جلسہ ہوا ہے وہ کہنے لگا اجی جلسہ تو ہوا ہے مگر ہم نے بھی خوب خبر لی۔اُس نے بیان کیا کہ کل پانچ بجے نے نوائے وقت ۱۶ اپریل ۶۱۹۴۸ * ه اخبار" غازی ۱۸ اپریل ۶۱۹۴۸