تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 315 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 315

۳۱۵ آپ بھی بہترین زندگی بسر کر رہے ہیں اور آئندہ اور بھی اچھا ہو جانے کی اُمید ہے۔اسکے ثبوت میں آپ نے تفصیلی بیان فرمایا کہ پاکستان کے وسائل ہزار درجہ چند دوستان سے بہترین ہیں۔آخر میں میں نے کشمیر کے متعلق پوچھا تو فرمایا انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جبکہ کشمیر پاکستان کا ایک بہترین حصہ ہو گا ہندوستان کی گورنمنٹ اس کو ابتداء میں تر نوالوم سمجھتی تھی لیکن آپ تلخ تجربہ کے بعد اُن کو چھٹی کا دودھ یاد آگیا۔اور یہ بات واضح ہے کہ مسلمان عموماً اور سرحدی قبائل کے بیٹھان خصوصاً عمد کر چکے ہیں کہ کشمیر کو فتح کر کے پاکستان کا حصہ بنائیں گے کیونکہ ان قبائلی لوگوں نے پاکستان کو اسلامی حکومت مان کو اپنی حکومت تسلیم کر لیا ہے اور اپنے آپکو اس کا ضروری حقہ تسلیم کرتے ہیں یا لے پاکستان خبر رساں اینیسی اور سی تقریر اس کی یا تیری اور کا ایک ایک برا نہیں نے میڈیا ہ پشاور در اپریل حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ نے ایک پبلک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ مشرقی پنجاب میں سے مسلمانوں کو ختم کر دینے کے لئے ان پر حملہ ایک سوچی سمجھی ہوئی سکیم کے ماتحت تھاتا کہ ایک خالص بفر ک کھ ریاست قائم کر دی جائے۔اس غرض کے لئے مشرقی پنجاب کے غیر مسلموں نے جنگ کا ایک خاکہ تیار کیا جس کے ماتحت قادیانی کے ستر نواحی دیہات پر حملہ کر کے چند دنوں کے اندراندر وہاں سے تمام مسلمانوں کا صفایا کر دیا گیا۔جب پنڈت جواہر لال نہرو سے مدد کے لئے کہا گیا تو انہوں نے حالات میں دخل دینے سے صاف انکار کر دیا جس پر مجبوراً مسلمانوں کو پاکستان میں پناہ لینی پڑی۔آپ نے فرمایا کہ اس سازش کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ پاکستان میں رہنے والے تمام غیر مسلموں کو ہندوستان بلالیا جائے تا کہ تجارت میں خلاء پیدا ہو کر اقتصادی توازن درہم برہم ہو جائے مگر پاکستان کے دشمن اپنے منصوبوں میں نا مراد رہے۔انہوں نے پاکستان کے مسلمانوں کی پیدائشی جرات و بہادری کو غلط قیاس کیا۔پاکستان کے لئے اسلامی آئین کے مطالبہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے لوگوں سے کہا کہ ل " الجمعیت سرحد پشاور 4 اپریل شار +