تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 301
۳۰۱ سورۃ میں بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ سے امداد حاصل کرنے کے وہ ذرائع جو اس سورۃ میں بیان کئے گئے ہیں اُن کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سورۃ آج ہر پاکستانی کے سامنے پہنچی چاہیے۔خصوصاً ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اس سورۃ کے مضامین پر غور کرے اور اس کے مطابق اپنی عملی زندگی بنائے کیونکہ جماعت احمدیہ نے ایک نیا عہد ضد اتعالیٰ سے باندھا ہے اور نئے عہد پرانے عہدوں سے زیادہ راسخ ہوتے ہیں۔انہوں نے دُنیا کے سامنے اعلان کیا ہے کہ ہم اسلام کی خدمت کریں گے اور ہم اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو قربان کر کے اسلام کا جھنڈا دنیا کے کونے کونے میں گاڑ دیں گے۔جب تک اپنے عمل سے وہ یہ ثابت نہیں کر دیتے کہ اُن میں سے ہر مرد اور ہر عورت اس عہد کے مطابق اپنی زندگی کیر کر رہا ہے۔جب تک وہ یہ ثابت نہیں کر دیتے کہ اسلام کے لئے فدائیت اور جان شاری کا جذبہ اُن کا ایک امتیازی نشان ہے اور وہ اپنی ایک ایک حرکت اسی بندہ کے ماتحت رکھیں گے اس وقت تک اُن کا یہ دعوئی کہ ہم اسلام کی خدمت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں ایک باطل دعوئی ہو گا اور ہر دوست اور دشمن کی نگاہ میں انہیں ذلیل کرنے والا ہوگا۔یکی اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہر احمدی مرد اور عورت کو اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں سچے طور پر اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی قربانی کرنے کی طاقت بخشے تا کہ وہ اپنے منہ سے ہی یہ کہنے والے نہ ہوں کہ ہم قربانی کر رہے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی آسمان پر اُن کی قربانیوں کو دیکھ کر تعریف کریں اور ان کی ترقی اور درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کریں اور اللہ تعالٰی موجودہ مصائب سے بچا کر مسلمانوں کو عزبت ، آزادی اور ترقی کی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اٹھے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔کراچی میں پریس کانفرنس میں جب کراچی میں تھاوہ ایک پریس کانفرنس کے دوران میں مجھ سے پولیس کے بعض نمائندوں نے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ سیکیورٹی کونسل ے قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں ص۲۹ تا ده والناشر متم نشر و اشاعت لاہور)