تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 293 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 293

۲۹۳ موجود نہ تھا۔وطنیت کا جذبہ ایک ایسی چیز ہے جو قوم کو اکٹھار کھنے ، اسے اُبھارنے اور ملک کے دفاع کے لئے اسے ہر ممکن قربانی کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔اگر خدانخواستہ یہ جذبہ پیدا کرنے میں ہم کامیاب نہ ہوئے تو ذرا سا اختلاف ہمارے اتحاد کو توڑنے کا موجب بن جائے گا۔وطنیت کے جذبہ کے بغیر کبھی ملک میں سے فراری کیا کہ وج نہیں جھکی جا سکتی۔حضور انے اصل موضوع پر تقریر شروع کرتے ہوئے فرمایا سب سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چا ہئیے کہ پاکستان کا مطالبہ کیوں کیا گیا تھا ؟ یہ مطالبہ اِس لئے نہیں کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں نسلی طور پر دو قومیں آباد تھیں۔کیونکہ یہ ایک واضح بات ہے کہ ہندوستان میں بہت سی ایسی قومیں موجود ہیں جن کا ایک حصہ ہندو ہے اور ایک مسلمان۔پھر زبان کے اختلاف کی بناء پر بھی یہ مطالبہ نہ کیا گیا تھا کیونکہ ہر صوبے میں رہنے والے ہندو اور مسلمان ایک ہی زبان بولتے تھے۔پھر آخر کیا چیز تھی جس کی بناء پر پاکستان کا مطالبہ کیا گیا ؟ ظاہر ہے کہ صرف اسلام ہی اس مطالبہ کی بنیاد تھا اور اسلامی کلچر کی حفاظت کرنے کے لئے ہی مسلمان علیحدہ حکومت کے طالب تھے۔پس مطالبہ پاکستان کے پس پردہ جو چیز کام کر رہی تھی وہ صرف اسلام تھا۔یعنی مسلمان یہ چاہتے تھے کہ جس جگہ ان کی اکثریت ہو وہاں انہیں ایک ایسی آزاد حکومت قائم کرنے کا موقعہ دیا جائے جس میں وہ اسلامی تعلیم اور اسلامی تہذیب کے مطابق ترقی کر سکیں اور آزادی کے ساتھ دیگر اسلامی ممالک کی مدد کر سکیں۔حضور نے فرمایا اسلامی حکومت کے الفاظ سے بہت سے غیر مسلموں کو دھو کہ لگتا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید غیر مسلموں کو بھی اسلامی احکام پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔حالانکہ یہ درست نہیں۔دنیا کے سب مذاہب میں سے صرف اور صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے قولاً اور عملا صاف الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ اسلامی احکام پر عمل کرنے کی پابندی صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔دیگھ مذاہب کے پیروؤں کو نہ صرف یہ کہ اسلام کے احکام پر چلنے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ اسلام کہتا ہے کہ ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنی اپنی مذہبی کتابوں کے مطابق عمل کریں کیونکہ اگر وہ اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں اور پھر اس پر عمل نہیں کرتے تو وہ منافق ہیں اور منافق کبھی بھی اچھے شہری نہیں بن سکتے ہیں مسلمانوں کو غیر مسلموں کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور انہیں بتانا چاہئیے کہ اسلامی حکومت کا مطلب صرف یہ ہے کہ مسلموں کے لئے قرآن مجید کے قوانین ہوں گے نہ کہ غیر مسلموں