تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 279
۲۷۹ ملک چند سالوں کے اندر اندر یہ آزادی حاصل کرلے گا اور وہ آزادی ایسی ہو گی جو اپنے ساتھ بہت سی تاریکیاں اور ظلمتیں بھی رکھتی ہو گی۔اس رؤیا کے ساتھ ایک آؤ رویا بھی تھی۔اس رویا میں ایک مضمون بار بار مجھ پر نازل ہوا وہ پورا مضمون تو مجھے یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ اس میں بار بار بیالیس اور اڑتالیس کا لفظ آتا تھا۔۔۔بہر حال اور تائین کا لفظ پنج سالہ زمانہ کی طرف توجہ دلاتا تھا۔یہ رویا ئیں نے مارچ ۱۹۲ء میں دیکھی تھی اور یہ پہنچ سالہ زمانہ مارچ 19 میں ختم ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے رویا کی تعبیر میں اگر پورا سال ہو تو اس کی کسر بھی ساتھ ہی شامل ہوتی ہے اس لئے ممکن ہے کہ پانچ سال کی کسر بھی یعنی چھ ماہ اور ملا کہ یہ نیہالہ زمانہ اکتوبر شاہ تک ہو ہر حال زیادہ سے زیادہ مدت شاہ کے آخر تک ہے۔اور اگر پورے پانچ سال ہوں تو یہ زمانہ مارچ ۱۹۴۹ء میں ختم ہوتا ہے گویا ۲۵ مارچ 1957 F ۱۹۴ء کے بعد پانچواں سال شروع ہو جائے گا۔پس یہ سال اپنے اندر بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے " سے سید نا حضرت مصلح موعود کی بیان فرموده تعبیر بالکل درست ثابہت ہوئی اور میں رونما ہونے والے متعدد واقعات خصوصاً ر بوہ جیسے عالمی اور بین الا قوامی شان رکھنے والے اسلامی مرکز کی بنیا د نے اس پر ہمیشہ کے لئے مہر تصدیق ثبت کر دی اور ساتھ ہی بتا دیا کہ سلسلہ احمدیہ کی تاریخ ایک ایسے آسمانی قافلہ کی تاریخ ہے جس کی ہر کی منزل کے فیصلے آسمانوں پر خدا کے شاہی دفتر میں تیار ہوتے ہیں اور پھر اُن کے مطابق زمین پر تنفیذ ہوتی ہے۔- ه الفضل ۲ تبلیغ فروری ۱۲۵ ۱۳ ۴ /