تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 275 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 275

۲۷۵ سلام۔چوہدری حکم دین صاحب دیا لگڑ بھی روفات -۱۹- اضاء / اکتوبر بعمر ه ۸ سال مقام لاہور سے ۵ - مرزا غلام نبی صاحب میں گر امرتسری (وفات 11 ماه نبوت / نومبر ا ہتمام لاہور - - در م الاول 4 - حضرت مولانا شیر علی صاحب (وفات ۱۳ نبوت / نومبر بمقام لاہور ) سے رہا ۶۱۹۴۷۔حضرت مرزا محمد اشرف صاحب بلا نوی دوفات ۱۲ماه نبوت / نومبر امه بعمر ۸۰ سال بمقام جہلم) شه 19۔1 ا الفضل ۱۳۳ با ید ه ۳۳۷) مد (والد ماجد مولانا محمد اسمعیل صاحب و یا لگرد هی مرتی سلسلہ احمدیہ حال انچارج شعبہ رشتہ ناطر اصلاح و ارشاد ربوہ ) منتشله میں مولوی حکیم نورالدین صاحب مرحوم اماکن سمجکہ ضلع شاہ پور کی تبلیغ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت کا شرف حاصل کیا اور آپ کے ذریعہ دونیال گڑھ ضلع گورداسپور کی جماعت کی بنیاد پڑی۔میں مقدمہ گورداسپور کے دوران گورداس پور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چھر مبارک کی زیارت اور حضور کی روحانی مجلس سے فیضیاب ہونے کی سعادت حاصل کی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے آپ کو ارشاد فرمایا کہ آپ تبلیغ میں لگے رہیں مومن کبھی اکیلا نہیں رہتا چنانچہ خدا کے فضل سے دیال گیا میں آہستہ آہستہ : ۲۶-۲۵ نفوس پر مشتمل ایک مخلص اور نعال جماعت پیدا ہو گئی۔چوہدری صاحب نہایت راست گو ، پاکباز ہے نفس اور منکسر المزاج بزرگ تھے۔آپ تحریک جدید دفتر اول کے مجاہد اور مومی تھے اور وصیت کا حصہ اپنی زندگی میں ہی ادا کر دیا تھا۔۱۱- ۱۲ اخاذر اکتوبر کے سب سے بڑے کا نوائے میں قادیان سے ہجرت کر کے لاہور آرہے تھے کہ لاہور کے قریب چلتی بس سے نیچے گر پڑے۔سر اور پاؤں میں نہایت سخت چوٹیں آئیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔(الفضل ۳-۴- امان / مارت ) : ه الفضل ۱۲ ماه نبوت ۱۳۳۶ صدا : الفضل ۱۴ نبوت هم صدا - سلسلہ احمدیہ کے نہایت قیمتی وجود اسید نا حضرت مسیح موعود کے مخلص ترین صحابہ میں سے ایک نمایاں شخصیت اور مترجم قرآن مجید انگریزی بشر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آئے اور آخر دم تک سلسلہ احمدیہ کی خدمات بجا لاتے رہے۔تاریخ احمدیت جلد دوم اور اس کے بعد کی بہادروں میں آپ کا ذکر متعدد بار آچکا ہے (تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو۔سیرت حضرت مولانا شیر علی از ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ریاض ) : " كد الفضل ٣ شهادت ه٣٢ ص - حضرت مسیح موعود کے قدیم جسمانی حضرت مرزا جلال الدین صاحب بلا نوی (اصحاب کبار ۳۱۳ میں نمبر اول کے منجھلے بیٹے تھے۔میں مستقبل ہجرت کر کے قادیان میں دھونی زیادی اور افسر بجائداد اور محاسب کی حیثیت سے گرانقدر خدمات انجام دینے کے بعد جب ء میں ریٹائر ہوئے تو حضرت (بقیہ حاشیہ اگلے صفیہ پیر )