تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 11
فرانس والوں میں اپنی چیز کے متعلق بہت تعصب پایا جاتا ہے۔انگریزوں کی چونکہ بہت بڑی ایمپائر ہے اور وہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ان کا رویہ دوسروں کے متعلق روادارانہ ہو گیا ہے مگر فرانسیسیوں کا طریق جدا ہے۔وجہ یہ کہ گو ان کی بھی ایمپائر ہے مگر ان کے مقبوضات اتنے پھیلے ہوئے نہیں۔اور ان کا رویہ ایسا ہے کہ ان کے ماتحت جتنی اقوام ہیں وہ پنپ نہیں سکتیں مجھے خود بھی اس کا تجربہ ہے۔پیرس میں فرانسیسیوں نے چندہ کر کے ایک اچھی بڑی مسجد بنوائی ہے۔اس کے ساتھ دکانیں قہوہ خانے اور ہوٹل وغیرہ بھی ہے تاکہ مراکش وغیرہ سے آنے والے مسلمان یہاں ٹھہریں۔ہم پیرس گئے تو حکام نے دعوت دی کہ ہم مسجد دیکھنے آئیں۔جب ہم مسجد دیکھنے روانہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ موٹر ڈرائیور کو پتہ نہیں کہ مسجد کہاں واقع ہے۔ایک جگہ دو آدمی کھڑے باتیں کر رہے تھے ہم میں سے کسی نے جا کر ایک سے پوچھا سجد کہاں ہے ؟ تو اس نے کندھے ہلاک کہ دیا کہ میں نہیں جانتا اور چل دیا۔دوسرے شخص نے بتایا کر یں اٹیلین ہوں اور وہ فرانسیسی ہے۔آپ لوگوں نے چونکہ انگریزی میں اس سے پوچھا اس لئے اس نے کہ دیا کہ میں نہیں جانتا۔وجہ یہ کہ فرانسیسی اپنی زبان کے سوا کسی دوسری زبان میں بات کرنا سخت ناپسند کرتے ہیں اور ایسے شخص کو حقارت سے دیکھتے ہیں جو فرانسیسی نہ جانتا ہو۔اٹالین نے کہا وہ انگریزی جانتا تھا اور مجھ سے انگریزی میں ہی باتیں کر رہا تھا اور اسے مسجد کا پتہ بھی تھا۔میرا تو واقف تھا اس لئے باتیں کر رہا تھا مگر آپ لوگوں کے انگریزی میں بات کرنے پر بُرا منا کر چلا گیا۔تو فرانسیسیوں میں اس قسم کا تعصب پایا جاتا ہے پھر ان کا یہ بھی طریق ہے کہ اپنی بات بہت سختی سے منواتے ہیں۔بیشک انگریز نرمی کرتا ہے مگر وہ نرمی ایسی ہی ہوتی ہے جیسی وہ اپنے کتے سے کرتے ہیں۔اس کے طریق عمل سے پتہ لگتا ہے کہ وہ دوسرے کو آدمی نہیں سمجھتا بلکہ گستاخیال کرتا ہے۔اس کے مقابلہ میں فرایسی بیشک سختی کرتا ہے مگر ایسی ہی سختی جیسی غلام سے کی جاتی ہے۔اس کے طریق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسان تو سمجھتا ہے مگر اپنا غلام (اس کی مثال یہ ہے کہ۔ناقل ) اگر کسی انگریز کی دعوت کریں تو میز اگرسی، چھری کانٹے کا انتظام کرنے کی منسکہ پڑ جاتی ہے اور اس طرح ے یہ مثال شامیوں نے ۱۹۳۲ء میں حضرت مصلح موعود کے سامنے ایک مجلس میں بیان کی تھی ؟