تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 267
سچاہتا ہوں۔تقریر کے بعد سر ظفر اللہ خان بہت تھکے ماندے نظر آتے تھے : اے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے اس تاریخی خطاب نے اقوام عالم کے سامنے فلسطینی مسلمانوں کا مسئلہ حقیقی خد و خال کے ساتھ نمایاں کر دیا اور متعود وممالک نے تقسیم فلسطین کے خلاف رائے دینے کا فیصلہ کر لیا لیکن بعد میں انہوں نے دنیا کی بعض بڑی طاقتوں کی طرف سے دباؤ میں آکر اپنی رائے بدل لی اور ۳۰ نومبر ۱۹۴۷ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو عرب اور یہودی دو علاقوں میں تقسیم کرنے کی امریکی روسی قرار داد پاس کر دی شیه ہ نوائے وقت ۱۲۔اکتو بر اصل کالم نہ : ے چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب نے 9 دسمبر ۹ہ کو گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک فاضلانہ خطاب فرمایا جس میں مشورہ تقسیم فلسطین کی سازش پر مفصل روشنی ڈالی۔اس تقریر کا ملخص اخبار " نوائے وقت نے درج ذیل الفاظ میں شائع کیا :- لاہور اور دسمبر۔ادارہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے قائد چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں نے آج مسئلہ فلسطین کے تمام پہلوؤں پر مفصل روشنی ڈالی۔انہوں نے ادارہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبل تقسیم فلسطینی کے فیصلہ کو سخت نا منصفانہ قرار دیا۔گورنمنٹ کالج لاہور میں تقریر کرتے ہوئے سر ظفر اللہ نے سخت افسوس ظاہر کیا کہ امریکی حکومت نے چھوٹی چھوٹی طاقتوں کے نمائندگان پر نا جائنہ دباؤ ڈال کر تقسیم فلسطین کے حق میں فیصلہ کر لیا۔سر ظفر اللہ نے کہا کہ امریکہ کی انتخابی سیاسیات نے فلسطین کو ایک مہرہ بنایا۔آپ نے فرما یا کہ سرقہ میں فلسطین کی مجوزہ یہودی ریاست میں نہ صرف ایک مضبوط عرب اقلیت ہمیشہ کے لئے ہو دیوں کی غلام بن جائے گی بلکہ ملک کی اقتصادیات پر بین الاقوامی کنٹرول قائم ہو جائے گا جو قطعاً غیر قانونی حرکت ہوگئے۔ھاری سرمحمد ظفر اللہ نے بتایا کہ کس طرح امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہودی اثر کے ماتحت چھوٹی چھوٹی اقوام پر ناجائز دباؤ ڈالا اور دو تین فیصلہ کن ووٹ حاصل کرلئے جس کے مطابق ادارہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی تقسیم کا نا منصفانہ فیصلہ ہوا۔سر ظفر اللہ نے بتایا کہ ۲۶ نومبر کو ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ ہم کامیاب ہو گئے ہیں اور مخالفت فریق کو اپنی شکست کا یقین ہو گیا تھا لیکن علی آخری وقت رائے شماری بلا وجه ۲۸ نومبر بر ملتوی کر دی گئی تا کہ دوسرے ممالک پر دباؤ ڈال کر فلسطین کے متعلق ان کا رویہ تبدیل کیا جا سکے۔چنانچہ جب ہیٹی کے مندوب نے رائے شماری کے بعد مجھ سے ملاقات کی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور اس نے افسوس ظاہر کیا کہ اسے آزادی کے ساتھ ووٹ دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔اکثر ایسے مندوبین نے جنہوں نے تقسیم فلسطین کے حق میں ووٹ ڈالے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے نہایت مجبوری کے عالم یہ تقسیم فلسطینی بقیه حاشیه ایگلے صفحہ پر)