تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 266 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 266

مریکی صدر مقام میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔مند و بین جس طرح اس مسئلہ پر اب تک اظہار خیال کرتے رہے ہیں اس سے یہ نتیجہ نکالنے کی کافی وجوہات ہیں کہ مندوبین میں نہ صرف عرب اور یہودی مطالبات اور دلائل کی صحت اور حقانیت کے بارہ میں ہی عارضی اختلافات ہیں بلکہ بعض مندوبین کو اس امر کا بھی احساس ہے کہ روس سے متعلق امریکہ کی موجودہ حکمت عملی کے لئے عربوں کی حمایت اور ہمدردی انتہائی اور فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے۔روس نے بھی ابھی تک اس مسئلہ پر اپنی روش کا اظہار نہیں کیا ہے۔امریکہ کی خاموشی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وہ روس کو اپنی خاموشی سے تھکا کر بولنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور خود سب سے آخر میں تقریر کر نا چاہتا ہے تاہم معلوم ہوتا ہے کہ فلسطینی مسئلہ آب بری طرح روس اور امریکہ کی باہمی کشمکش میں الجھے بجائے گا۔(رائٹر نے سطین کے متعلق سرظفر اللہ کی تقریر سے دھوم مچ گئی عرب لیڈروں کی طرف سر ظفر اللہ خان کو خراج تحسین نیویارک ۱۰ اکتوبر مجلس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سر محمد ظفر اللہ خان رئیس الوند پاکستان نے جو تقریر کی وہ ہر لحاظ افضل و اعلیٰ تھی۔آپ تقریباً ۱۵ منٹ بولتے رہے۔اس تقریر کا اثر یہ ہوا کہ جب آپ تقریر ختم کر کے بیٹھے تو ایک عرب ترجمان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر عربوں کے معاملہ کے متعلق یہ ایک بہترین تقریر تھی۔آج تک میں نے ایسی شاندار تقریر نہیں سنی۔سر محمد ظفر اللہ خاں نے اپنی تقریر میں زیادہ زور تقسیم فلسطین کے خلاف دلائل دینے میں صرف کیا۔جب آپ تقریر کر رہے تھے تو مسرت و ابتہاج سے عرب نمائندوں کے چہرے تمتما اُٹھے۔تقریر کے خاتمے پر عرب ممالک کے مندوبین نے آپ سے مصافحہ کیا اور ایسی شاندار تقریر کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ایک انگریز مندوب نے سر ظفر اللہ کو پیغام بھیجا کہ آپ کی تقریر نہایت شاندار تھی مجھے اس کی نقل بھیجے میں انہماک سے اس کا مطالعہ کرنا ے نواسه وقت ۱۲ اکتوبر ستائر صاج