تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 248
۲۴۸ خط لکھ کر داخل احمدیت ہو گئے اور اپنے علم اور خلوص میں جلد جلد ترقی کر کے تبلیغ احمدیت میں مولوی صاحب کے دست راست بن گئے۔اس کامیابی نے شیخ عثمان کے علماء اور فقہاء کو اور بھی مشتعل کر دیا اور وہ پہلے سے زیادہ مخالفت کی آگ بھڑکانے لگے مگر مولوی غلام احمد صاحب اور عبدالله حمد شبوطی نے اس کی کوئی پروانہ کی اور نہایت بے جگری ، جوش اور فداکاری کی روح کے ساتھ پر ملیں میں اور ہر جگہ دن اور رات زبانی اور تحریری طور پر پیغام احمدیت پہنچاتے چلے گئے اور امراء ، غرباء ، علماء اور فقہاء غرض کہ ہر طبقہ کے لوگوں کو ان کے گھروں میں جا کہ نہایت خاکساری اور عاجزی سے دعوت حق دینے لگے۔نتیجہ یہ ہوا کہ بعض وہ لوگ جو پہلے ان کا سننا گوارا نہ کرتے تھے اب حضرت سیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تفسیر کوشن کر عش عش کرنے لگے حتی کہ بعض نے یہ اقرار کیا کہ حضرت مرزا صاحب کی بیان فرمودہ تفسیر واقعی الہامی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے آپ کو علم لدنی سے نوازا ہے۔ماه نبوت / نومبر میں علماء نے عدن اشیخ عثمان اور تو انہی نے مادر علماء کی طرف بے کمشنر کو عرضی کے مختلف لوگوں سے ایک عرضی پستخط کر واکر مشتر کو دی اور اس کا رد عمل کہ ہم اس مشیر قادیان کا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے یہ ہمار ایمانوں کو خراب کر رہا ہے۔شیخ عثمان کے بعض نوجوانوں کو اس شکایت کا پتہ چلا تو انہوں نے علماء کے اس رویہ کی جو انہوں نے اپنی کم علمی و بے بضاعتی کو چھپانے اور اپنی شکست خوردہ ذہنیت پر پر وہ ڈالنے کیلئے اختیار کیا تھا دل کھول کر نذمت کی اور ان کے خلاف زہر دست پر اسپیگینڈا کیا۔بلکہ قریباً پچاس آدمیوں نے یہ لکھا کہ ہم اس مبشر اسلامی کو دیگر سب علماء سے زیادہ پسند کرتے ہیں، اور واقعی یہ حقیقی مسلمان ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت کے فقیہوں اور فریسیوں نے حضرت مشیح کی مخالفت کی تھی یہ لوگ بھی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر اس شخص کا نفوذ وسیع ہوگیا تو ہماری کوئی وقعت نہ رہے گی۔غرض کہ اس مخالفت کا خدا کے فضل سے اچھا نتیجہ نکلا۔ان دنوں عدن میں بہود اور عرب کی کشمکش بھی یکا یک ڈاکٹر فیروز الدین صاحب انتقال زور پکڑ گئی جس کا اشرتی سرگرمیوں پر ھی پر ناگزیر تھا۔علاوہ ازیں عدکن کی جماعت کے پریذیڈنٹ جناب ڈاکٹر فیروز الدین صاحب عین فسادات