تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 224
۲۲۴ چلی گئی۔بور یو میں دوسرے مجاہدین احمدیت کی مد مقبل اس کے کورش کے بقیہ ضروری کو انف و کے نیومیں امام حالات پر روشنی ڈالی جائے یہاں ہم ای مجاہدین احمدیت کا یکجائی طور پر ذکر کر ناضروری سمجھتے ہیں جنوں بور نیوشن کے مؤسس مولوی محمد زہدی صفات کے بعد جماعت احمدیہ بوریوں کی تعلیم وتربیت کرنے اور اس کو ترقی دینے میں نمایاں حصہ لیا۔راس سلسلہ میں ہم سب سے پہلے محترم مولوی محمد سعید صاحب انصاری کا ذکر کرتے ہیں جو قریباً تو برس تک مشرق بعید کے اِس دور افتادہ جزیرہ میں کلمہ حق بلند کرتے رہے۔جناب انصاری صاحب چار سال تک پیغام حق پہنچانے کے بعد ۳ ماه فتح دسمبر کو صرف چھ ماہ کی رخصت پر پاکستان ۱۱۹۵۳ 51904 آکر واپس تشریف لے گئے اور پانچ سال تک فریہ تبلیغ بجالانے کے بعد، از ظهور/ اگست هر کو مرکز احمدیت ربوہ کے لئے روانہ ہوئے۔آپ کے زمانہ قیام کے دوران ہی مرزا محمد ادریس صاحب فاضل شاہد اور حضرت مولوی غلام حسین صاحب ایا ز سابق مبلغ سنگا پور بھی خدمات دینیہ انجام دیتے رہے مولوی غلام حسین صاحب ایاز کا ورود اِس سرزمین پر یکم احسان ارجون حملہ کو ہوا لیکن عمر نے وفا نہ کی اور آپ نے ساڑھے چار ماہ بعدہ ۱ ماه اخاذ / اکتوبر سر کو لا تو ان میں وفات پائی اور یہیں سپرو خاک کئے گئے۔مرزا محمد اور میں صاحب مورخہ ۱۴ صلح / جنوری کو اس مشن میں تشریف لے گئے ه ۳ ء 4484 ۱۹۵۳ء اور متواتروس سال تک اسلام و احمدیت کا جھنڈا بلند رکھنے اور مشن کا چارج مولوی بشارت احمد مفتا ۱۳۴۲ نستیم امروہوی کے سپرد کرنے کے بعد 14 احسان جون کو عازم پاکستان ہو گئے۔اب تک یہ (ساباہ، مشن جناب سیم صاحب ہی کے زیرا امارت کام کر رہا ہے۔بورنیو میں اب تک مسلسلہ احمدیہ کی تائید میں صرف بورتی میں ٹھوس علی لٹریچر کی اشاعت اور ریٹ شائع ہوئے تھے اپنی افادیت کے با وجود بڑھتی ہوئی تبلیغی ضروریات کے لحاظ سے مرا سرنا کافی تھے۔ڈاکٹر حافظ بدرالدین احمد هنا مرحوم نے اس طرف خصوصی توجہ دی اور دن رات ایک کر کے ٹھوس علمی لٹریچر پیدا کیا۔چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے سب سے پہلے میر میں احمدیہ موومنٹ ان اسلام تالیف کی جو ان میں شائع کی گئی۔اس کتاب کے بعد آپ کے قلم سے انگریزی میں اکنا مک مسٹم آف اسلام ، آنحضرت صلے اللہ ۱۹۴۹