تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 223 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 223

۲۲۳ تھے چنانچہ ماہ فتح را دسمبر میں احمد بو جنگ بن رؤون صاحب ٹیلینم ( TENOM) نامی مقام کی طرف بغرض تبلیغ روانہ کئے گئے۔لے (۲) بیشکونن (LING KUNGAN) - یہ اگر چہ ایک نئی جماعت تھی مگر بہت مخلص اور پُر جوش ثابت ہوئی۔اس کی قربانیوں کے باعث احمدیہ مشن کو اس زمانہ میں بہت تقویت پہنچی پیش کرخی کے احمدی نوجوان فدائیت کی روح سے سرشار ہو کر گردو نواح میں پھیل جاتے اور گھر گھر احمدیت کا پیغام پہنچاتے تھے۔خدام الاحمدیہ" اور "الجنہ اماء اللہ کی شاخیں بھی یہاں ابتداء ہی میں قائم ہوگئیں اور انکے باقاعدہ اجلاس ہونے لگے یہ علاوہ ازیں اس جماعت نے بہت جلد اپنی مسجد بھی تعمیر کو لی جس کا افتتاح زہدی صاحب نے ماہ امان / مارچ بروز جمعہ کیا یہ (۳) لابوان - لابو ان کی اولین جماعت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی قربانی اور ایشیا میں جلد جلد ترقی کرنے لگی۔چنانچہ ماہ فتح / دسمبر تک اس کے اسی فیصد دوست و حیرت کر چکے تھے۔اکثر ۶۱۹۴۸ احباب نے اپنی جائدادیں اور اولادیں خدمت دین کے لئے وقف کر دیں اور احمدیہ مسجد اور احمدیہ قبرستان کے لئے زمین کا انتظام کر لیات ازاں بعد احمدیہ مسجد کی تعمیر ہوگئی۔ابتداء میں یہ مسجد دو دیواروں پر کھڑی تھی اور دروازہ کوئی نہیں تھا مگر ماہ شہادت / اپریل ۳۱ میں مولوی محمد سعید انصاری صاحب ۶۱۹۵۰ کے قیام لابو ان کے دوران اس کی مرمت اور توسیع کا کام ہوا جس سے مسجد میں ستر نمازیوں کے لئے گنجائش نکل آئی تعمیر مسجد میں سب سے نمایاں حصہ سلیم شاہ صاحب نے کیا اور دوسرے نمبر پر انصاری صاحب نے۔قریباً دس روز تک ان ہر دو اصحاب نے مزدوروں کی طرح کام کیا اور ایک دن تمام جماعت نے تین گھنٹے تک اجتماعی و قار عمل منایاشه ۶۱۹۴۹ ران تین نسبتاً بڑی جماعتوں کے علاوہ ماہ امان / مارچ منی میں روکوڈنگ میں بھی احمدیت کا بیج بویا گیا جہاں ایک ذی اثر شخص داخل احمدیت ہوئے لیے علاوہ ازیں ایسا نم (INANAM) میں بھی لوگوں نے احمدیت قبول کی۔اس طرح جزیرہ میں آہستہ آہستہ حق و صداقت کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی له الفضل اور تبلیغ فروری هم به ایضاً من الفضل ۳ احسان جون ے : هم 71909 من له الفضل در تبلیغ فروری هم مث : شه رپورٹ مولوی محمد محمد صاحب انصاری ۶۱۹۴۹ محرده ۵ در شهادت / اپریل ھے آپ کی تشریف آوری کا تذکرہ آگے آرہا ہے : من الفضل و احسان جون ر ۱۹۵۰ء 1977