تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 219 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 219

۲۱۹ چھوٹے بڑے عالم اور ملا کے پاس گئے اور اپنے احمدی ہونے کا اعلان کرتے گئے کہ جس نے آج کے بعد دودھ بند کرنا ہو بند کر دے میں احمدی ہو گیا ہوں۔اس واقعہ کے بعد تبلیغ کا رستہ گھل گیا اور آہستہ آہستہ ایک مختصر سی مخلص جماعت قائم ہو گئی۔دوسری عالمگیر جنگ کے آخری سال میں سلسلہ احمدیہ کے ایک مخلص اور پر جوش فرد حافظ ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب برٹش نارت بوریو میں سلسلہ ملازمین مقیم تھے۔اپنے عرصہ قیام میں انہوں نے دیکھا کہ یہ علاقہ تبلیغ کے لئے خالی پڑا ہے اور ان کے دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کسی طرح اس ملک میں احمدیہ شن قائم ہو جائے چنانچہ انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار وہاں کے احمدی دوستوں سے بھی کیا جنہوں نے اُن کی رائے سے مکمل اتفاق کیا۔ازاں بعد جب ڈاکٹر صاحب موصوف ہندوستان میں اگر فوجی ملازمت سے سبکدوش ہو گئے تو انہوں نے خود بور نیومیں پریکٹس کر کے تبلیغ احمدیت کرنے کا دم کر لیا۔نیز حضرت مصلح موعود کی خدمت مبارک میں شمالی اور نیو کے لئے مبلغ بھجوائے جانے کی درخوات کی اور پھر ماہ شہادت / اپریل سے / اپریل کے پہلے ہفتہ میں معہ اہل و عیال اور نیو تشریف لے گئے اور تبلیٹن میں تقسیم ہو کر (مختصر وقفہ کے ساتھ ، قریباً تیرہ سال تک آنریر کی تبلیغ اسلام کی حیثیت سے قابل قدر خدمات انجام دیتے رہے اور دار ماہ صلح / جنوری ها و بیماری کی حالت میں پاکستان میں تشریف لائے اور دو ہفتہ بعد انتقال کر گئے۔ہے ۶۱۹۶۴ + ا الفضل ۳ رامان کر مار ۱۳۳ سے ولادت ۳ مینوری نشده - وفات کے جنوری ۱ - حضرت خاں فضا مولوی فرزند علی صاحب کے فرزند اکبر تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی بذریعہ خط بیعت کر کے داخیل احمدیت ہوئے بار میں تعلیم اسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک کا اور شاہ میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی۔ایس کا امتحان پاس کیا۔اور کالج کے زمانہ میں آپ احمدیہ ہوسٹل میں رہے۔امتحان پاس کرنے کے بعد حضرت مصلح موعود کے ارشاد مبارک کی تعمیل میں آپ مشرقی افریقہ تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ نیروبی ، کمپانہ اور میںگاڑی میں رہنے کے بعد شاہ میں واپس آئے اور کراچی میں پریکٹس شروع کر دی۔کراچی میں تین سال گزارنے کے بعد پھر مشرقی افریقہ چلے گئے اور میگا ڈی وغیرہ میں پانچ سال تک رہے۔یہ زمانہ دوسری جنگ عظیم کا تھا حکومت کو ڈاکٹروں کی خدمات کی ضرورت تھی چنانچہ ڈاکٹر صاحب کیپٹن کے عہدہ پر فوج یہ متعین ہو گئے۔اِس دوران میں انہوں نے زیادہ تر وقت مشرق بعید کے مختلف مالک میں گزا را بشائر میں فوج سے سبکدوش ہو کر قادیان واپس آگئے۔(الفرقان در بوه) شہادت کا اپریل : من له الفضل ۱ صلح / جنوری ، ۲ تبلیغ فروری : ۱۹۴۹ ه الفضل به شهادت را اپریل همه مره ۶۱۹۴