تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 214
۲۱۴ روحانی رنگ غالب تھا مستجاب الدعوات اور صاحبہ رویا و کشوف تھیں۔نمازوں کا التزام بہت باقاعدگی کے ساتھ تھا۔قرآن کریم سے ایسی محبت تھی جو عشق کا رنگ رکھتی تھی مسجد کے ساتھ انہیں ایسا لگاؤ تھا کہ کہا کرتی تھیں مجھے مسجد آکر سکون قلب حاصل ہو جاتا ہے۔یہ خاتون کوئی بینی برس مشن کے ساتھ وابستہ رہیں اور مالی قربانیوں میں برابر حصہ لیتی رہیں۔اسی طرح ہمارے نوجوانوں میں بھی بعض بنایت اخلاص کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔جماعتی کاموں میں نہایت شوق سے حصہ لیتے ہیں اور اپنا بہت سا وقت اس کے لئے قربان کرتے ہیں بعض دوستوں کے گھر بیگ سے خاصے فاصلہ پر ہیں مگر اس کے باوجود مسجد التزام سے آتے ہیں بعض نوجوانوں کو ان کے والدین نے بیعت کرنے پر تکالیف بھی دیں اور بہت تنگ کیا مگر وہ تمام مراحل میں ثابت قدم رہے اور اپنے دین کو ہر چیز پر مقدم رکھا بعض نوجوانوں کو سالہا سال تک اسلام سے وابستگی کو لوگوں سے مخفی رکھنا پڑا اور اس غرض کے لئے انہیں بہت وقعہ قربانیاں دینی پڑیں مگر ان کے ایمان میں تخریش نہ آئی۔ہالینڈ کے ایک مخلص نوجوان عمر نام ہیں جن کی آمد کوئی بہت زیادہ نہیں مگر چندوں میں وہ اس قدر باقاعدہ ہیں کہ اکثر وہ اپنے چندے پیشگی ادا کر دیتے ہیں۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ انہیں اپنی ملازمت سے نوٹس مل گیا۔اب ایک غریب آدمی کے لئے ایسا وقت ہر حال مشکل ہی کا ہوتا ہے مگر ان کا اخلاص اس قسم کا تھا کہ انہوں نے اپنی تھوڑی سی جمع شدہ رقم میں سے چار ماہ کا چند پیشگی ادا کر دیا تا ایسا نہ ہو کہ کام جبل نہ مل سکنے کے نتیجہ میں ان کے تنگ دستی کے حالات ان کے چندہ پر اثر انداز ہوں۔یہ حالات ایسے نہیں کہ انہیں آسانی سے نظر انداز کیا جاسکے۔اسی طرح ایک اور ممبر تھے جو سلسلہ کے لئے مالی قربانی کا خاص جذبہ اپنے اندر رکھتے بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ :۔بھی پائیں۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اُن کی وفات پر خطبہ جمعہ میں انکی خوبیوں کا ذکر فرمایا اور اس نیک خاتون کو ایک بنایت صالحہ عابدہ، زاہدہ صاحبہ رؤیا و کشوف اور ستجاب الدعوات " کے الفاظ سے یاد فرمایا (الفضل ١١- اضاء / اکتوبر هر مضمون حافظ قدرت اللہ صاحب) الفضل ۱۲ ( بار راه نبوت / نومبر رصد دمشق رپورٹ از جناب عبدالحکیم صاحب اکمل )