تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 127
۱۲۷ رفیق پھان نے جو اس تقریب کے لئے لمبا سفر کر کے آئے تھے اُن کا جد من ترجمہ پڑھ کر سنایا۔حضرت بیگم صاحبہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور دعا فرمائی اور پھر برادرم چوهدری عبد اللطیف صاحب نے اس کا جرمن ترجمه شنایا اور آخر میں خاکسار نے حضرت بیگم صاحبہ اور حاضرین سمیت ہاتھ اٹھا کولمبی دعا کی اس طرح یہ تاریخی تقریب انجام پذیر ہوئی۔اللہ تعالیٰ کی یہ عجیب قدرت تھی کہ حضرت بیگم صاحبہ کی آمد سے قبل بارش ہو رہی تھی لیکن اس تقریب کے آغاز کے ساتھ ہی بارش بالکل رک گئی حضرت بیگم صاحبہ اپنے قافلہ سمیت مشن ہاؤس تشریف لے گئیں اور باقی احباب و خواتین جن میں سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے احمدی بہن بھائیوں کے علاوہ مختلف ممالک کے مسلمان بھی موجود تھے ، ریستوران میں تشریف لے گئے۔یہاں پر ریڈیو کے نمائندہ نے بعض سوالات دریافت کئے برادرم لطیف صاحب نے ان کے جوابات ریکارڈ کروائے۔مسجد کے پلاٹ کے ساتھ جلد سازی کی ایک بہت بڑی فرم کا کارخانہ ہے اس کے ڈائریکٹر نے ۲۳ اگست کو جب خاکسار انجینیٹروں کے ہمراہ پلاٹ پر بنیاد کی مسکیم ملے کہ رہا تھا آکر ملاقات کی اور ہمیں خوش آمدید کہا اور اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔اس کے علاوہ اس نے ایک خوبصورت بیوی البم تیار کر وایا اس اہم کو اس تاریخی تقریب میں شریک ہونے والے احباب و خواتین کی یاد محفوظ رکھنے کے لئے دستخطوں کے واسطے استعمال کیا گیا۔۲۵ کی شام کو جب ریڈیو نے ہماری اس مسجد کے افتتاح کی خبر نشر کی تو اس کے ساتھ ہی ایک پادری کا مسجد کے بارہ میں تبصرہ بھی براڈ کاسٹ کیا گیا۔ایک توسلم خاتون نے اس بارہ میں اپنا تاثر دیتے ہوئے بتایا کہ اس پادری کی آواز کی لرزش سے اس کی سراسیمگی ہو ید تھی۔اس نے کہا کہ میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ عین گر بھا کے سامنے کیوں مسجد بنائی جارہی ہے؟ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر ہے جس میں کسی انسانی تدبیر کا دخل نہ تھا اتفاق سے ہمیں مسجد کے لئے پلاٹ ایسی جگہ ملا ہے جو عین گر جا کے سامنے ہے مسجد خدائے واحد کا گھر ہے اور اس سے پانچوں وقت اس کی توحید کی منادی ہوتی ہے۔اسکے بالمقابل سیمی گرجا تثلیث کا مرکز ہے۔ان کے ایک دوسرے کے مقابل پر ہونے