تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 103
١٠٣ حصہ میں توحید الہی پر بہت زور دیا گیا ہے اور الحاد پرسخت حملے کئے گئے ہیں۔یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف سخت رویہ روا رکھا گیا ہے لیکن جهانی فردوس کی نعماء کا ذکر کرتے وقت صرف وفادار بیویوں کو نہ کہ سیاہ چشم خوروں کو مجاہدین شہداء کا نتظر دکھایا گیا ہے۔اگر چہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم) کو جو جھوٹے نبی کے نام سے پکارا جا تا رہا ہے اس کی کتنی ہی پر زور تردید کیوں نہ کی جائے جیسا کہ بیل (BALE) کا پادری ہر اتوار کو بلاناغہ پرانے طریق کے مطابق اپنے منبر سے یہ آواز اُٹھاتا ہے کہ بھوٹے محمد کے قلعوں کو مسمار کر دو یہ تب بھی عہد نامہ عقیق کے نبیوں اور (حضرت محمد (صلعم) کا موازنہ ان کے (حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حق میں بہت غیر مفید ثابت ہوتا ہے سوائے اس کے کہ ایس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جو باتیں محمد رسول اللہ (صلعم) کی زندگی ہی میں منصہ شہود پر آگئی تھیں ان کے حصول کے لئے یہودیت اور عیسویت کو صدیوں کی مساعی کرنی پڑیں اور وہ بھی مختلف طریق عمل پر اس حقیقت سے بھی انکار مشکل ہے کہ محمد رسول اللہ (صلعم ، مکی زندگی میں بلاشبہ نبی تھے۔ان کا سراپا ان کے مشن میں محو تھا اور انہوں نے دیانتدار مصلح یا ریفارمر کی زندگی بسر کی لیکن بونی آپ مدینہ میں منتقل ہوئے آپ میں وہ تمام صلاحیتیں نظر آنے لگیں جو ایک کہنہ مشق سیاستدان میں ہونی چاہئیں۔جو اپنے مقصد کے حصول کے لئے کیا کچھ نہیں کر گزرتے۔وہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے ایسی وحی کے بھی مدعی ہیں جن میں ان کے ذاتی مراعات کا جواز یا ذکر ہے اور ان مراعات کا دائرہ کسی حد تک اخلاقیات پر بھی حاوی ہے۔اسی طرح سورۃ ۳۳ : ۲۹ جس میں آپ کے لئے ازواج کی تعداد کا ذکر ہے یا جب آپ کی نظر خوبصورت زینب پر جاپڑی جو آپ کے مقتدی کی بیوی تھی۔آپ کی خواہش تھی کہ زید کے عقد سے آزاد ہونے کے بعد اس سے شادی کر لیں تو ایک وحی کے ذریعہ تمام شک مخالفت کو دیا دیا گیا () اسی طرح سورۃ لا میں ذکر ہے کہ فرشتہ وحی آپ کو ریچی واندوہ کے بنچوں سے آزاد کرانے کے لئے حرم نہوئی میں بھی اترا کرتا تھا۔بائبل اور قرآن (کریم) کی اصلیت کا موازنہ اور ان پر بحث کرتے ہوئے بھی بعد ابد ایمانے استعمال کھئے گئے ہیں: (۴) آسٹریا کے مؤقر جریدہ BI BEL UNDLI TURBIE نے اپنی اشاعت اگست و ستمبر