تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 95
۹۵ (1) ایک مشہور بدھ جماعت کے ماہنامہ " DIE EINSIGHT " شائر کے آٹھویں شمارہ کے صفحہ ہے پر جرمن ترجمہ قرآن کریم کی نسبت حسب ذیل ریمارکس شائع ہوئے :۔صفحات پرمشتمل جرمن ترجمہ قرآن مع عربی متن۔پہلا مستند اور قابل اعتماد ترجمہ - قیمت ۱۸ مارک جماعت احمدیہ کی طرف سے زیورچ اور ہمبرگ کے مشنوں کے نام سے شائع شدہ یہ ترجمہ قرآن کریم اس لحاظ سے قابل توجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت میرزا محمود احمد صاحب نے اس کے شروع میں۔۱۵ صفحات پرمشتمل ایک ویب پر تصنیف کیا ہے جو بہت دلچسپ امور پر اس لحاظ سے روشنی ڈالتا ہے کہ اسلام کا مطمح نظر دیگر مذاہب کی تعلیمات ک بارہ میں کیا ہے۔اس دنیا چہ کے پہلے حصہ میں قرآن کریم کی ضرورت پر بحث کی گئی ہے اور بائبل اور ویدوں کے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق نظریات کی وضات کی گئی ہے۔خاص طور پر یسوع مسیح (JESUS CHRIST) کی پوزیشن کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ عالمگیر نبی نہ تھے کیونکہ انہوں نے خود واضح الفاظ میں لیکن صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو اکٹھا کرنے کے لئے آیا ہوئی زرتی ملی اگر اس امر کو ظاہر کیا ہے کہ ان کی بعثت کا مقصد بنی اسرائیل کے لئے محدود تھا اور وہ تمام دنیا کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے۔صفحہ ۲۳ پر یہ بھی تحریر ہے کہ حضرت بڑھا بھی عالمیگر تعلیمات نہیں لائے۔اگر چہ ان کی تعلیمات ان کی وفات کے بعد چین میں پھیلیں لیکن ان کا اپنا ذہن ہندوستان کی چار دیواری سے باہر کبھی گیا ہی نہیں۔آگے چل کر تمدن و تہذیب اور کلچر کی اہمیت کے بارہ میں اسلامی نظریات کو پیش کیا گیا ہے اور یہ سوال اُٹھایا گیا ہے، کیا پہلی کتب میں کوئی ایسا نقص تو نہیں آگیا تھا جس کی وجہ سے ایک نئی کتاب کی ضرورت شدید طور پر دنیا کو محسوس ہو رہی تھی اور قرآن کریم اس ضرورت کو پورا کرنے والا تھا" نئے اور پرانے عہد نامہ میں سے متعدد حوالے پیش کرنے کے بعد اس سوال کا جواب مثبت ہیں دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ اس بات کی واقعی ضرورت تھی کہ خدا تعالیٰ ایک نئے الہام کو نازل کرتا جو غلطیوں سے منزہ ہوتا اور بنی نوع انسان کو اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ روحانیت کی طرف لے جانے والا ہوتا اور وہ کتاب اور الہام قرآن کریم ہے " راسی طرح ویدوں کی ظالمانہ تعلیمات، توہمات ، تناقف اور خلاف اخلاق تعلیمات پر سیر کن بحث