تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 86 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 86

A4 کو مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرنے کے لئے اشتہار شائع کئے۔اس ضمن میں اس کے زیر انتظام تبوک استمبر یا ہش کے وسط میں شائع شدہ ایک ہینڈبل بطور نمونہ درج کیا جاتا ہے:۔مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کی کامل بربادی کے سامان اگست کی گیارہ تاریخ سے سکھوں نے امر تسر اور ضلع گورداسپور میں حملہ شروع کیا۔اٹھارہ سے فیروز پور، بجالندھر، ہوشیار پور اور لدھیانہ میں حملے شروع ہوئے۔پہلے چند دن تک افسران نے ظاہرداری برتی۔شاید یہ خیال تھا کہ کہیں یہ علاقہ پاکستان میں نہ پھیلا جائے۔لیکن جونہی اعلان ہوا کہ یہ علاقے ہندوستان میں چلے گئے ہیں اندھیر نگری شروع ہو گئی ہے حالات چُھپائے جا رہے ہیں اور باہر نکلنے نہیں دیئے جاتے۔جھوٹی رپورٹیں امن کی شائع ہو رہی ہیں حالانکہ فساد بڑھ رہے ہیں کم نہیں ہوئے۔بٹالہ کی تحصیل میں مسلمانوں کی تعداد ۵۰ فیصدی تھی آج بمشکل ۲۵ فیصدی ہوگی۔کچھ مارے گئے کچھ بھاگ گئے۔حملہ کی ترتیب یوں ہوتی ہے کہ بڑے بڑے چند قصبات کو چن کر ان کے ارد گرد کے چھوٹے دیہات پر حملہ کر دیا جاتا ہے تاکہ ماحول کمزور کر کے بڑے دیہات پر حملہ کیا جائے مسلمانوں کے پاس سوائے شاذ و نادر کے سب اسلحہ لا ئینیس والا ہے اس لئے اسلحہ بھی کم اور سامان بھی کم ہوتا ہے۔رات کے وقت ہر گاؤں سے مقررہ تعداد لوگوں کی ایک گاؤں میں جمع ہوتی ہے اور وہاں سے کسی گاؤں پر حملہ کے لئے چل پڑتی ہے جملہ یا شروع رات میں کیا جاتا ہے یا آخر شب میں صبح کے قریب۔حملہ آوروں کے پاس ۳۳ کی فوجی انھیں مرین گن۔ہم اور عام بندوقیں بکثرت ہیں۔سنا گیا ہے کہ پٹیالہ ، فرید کوٹ ، کپورتھلہ وغیرہ نے اپنی فوجوں کا ایک حصہ انہیں دیا ہوا ہے اور ظاہر میں یہ اعلان کر دیا گیا ہے که اتنی اتنی فوج رائفلوں سمیت بھاگ گئی ہے۔اس فوج کے کچھ نوجوان بعض دفعہ وردی میں گاؤں کے پاس جاتے ہیں اور اپنے آپ کو ملٹری ظاہر کر کے لوگوں کو تسلی دیتے ہیں۔اور اس کے معا بعد غافل مسلمانوں پر سکھ حملہ کر دیتے ہیں۔