تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 73 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 73

کٹوائے کو بغیر تلاشی لئے روانگی کی اجازت مل گئی اور اس طرح آپ نے حسین تدبیر سے خواتین اور بچوں کو بڑی تکلیف سے بچا لیا بھا لیکہ آپ سے پہلے آنے والا قافلہ اس دن بھی نہ جا سکا تو اگلے دن روانہ ہوا۔لڑکوں میں سوار ہونے کے سلسلہ میں عورتوں کو ایک بڑی تکلیف یہ بھی درپیش تھی کہ ہند و ملٹری کا قریباً ہر سپاہی اور افسر چند ایک بیرونی پناہ گزین مردوں اور عورتوں کو اپنے ساتھ لگائے پھرتا اور ہر ٹرک میں جو پہلے ہی عورتوں اور بچوں سے لبالب بھرا ہوتا نہ صرف عورتوں کو بلکہ مردوں کو بھی زبردستی ٹھونستا چاہتا اور باوجود بار بار صدائے احتجاج بلند کرنے کے ٹھونس کو ہی رہتا۔یہ کون لوگ تھے ، وہی خانماں برباد جو اپنی رہی سہی پونجی ان بھیڑیوں کی نذر کو دیتے تاکہ جان بچا کر ان کے نرغہ سے نکل سکیں۔ان ہو لناک اور تباہ کن ایام میں جبکہ مشرقی پنجاب کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سے تک لاکھوں مسلمان انتہائی مظالم کا شکار ہو رہے اور سفاکوں کے ظلم وستم سے بچنے اور اپنے تنگ و ناموس کو بچانے کی کوئی صورت نہ پاتے تھے۔چنانچہ اب تک لاکھوں ہی موت کے گھاٹ اُتر چکے اور لاکھوں ابھی تک مخلصی پانے کا کوئی ذریعہ میسر نہ آنے کی وجہ سے موت کے پنجہ میں گرفتار ہیں۔یہ انتظامات قادیان سے ہزاروں عورتوں اور بچوں کو صحیح سلامت نکال لانے کے انتظامات خواتین کے ننگ و ناموس اور عزت و حرمت کو محفوظ رکھنے کے یہ انتظامات۔حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایک اللہ تعالیٰ کی دن رات کی ان کوششوں اور مساعی کا ہی نتیجہ ہے جنہیں خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے شرف قبول بخشا اور جن کی کامیابی کی مثال ، جانی مال ، عزت و آبرو کی تباہی کے اس غیر معمولی سیلاب میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔اور جب یہ دیکھا جائے کہ ہمارے راستہ میں جس قدر مشکلات حائل تھیں۔ہمارے مقابلہ میں روکا و تو کے جس قدر پہاڑ کھڑے تھے اور ہم بے سرو سامانی کی جس بعد کو پہنچے ہوئے تھے اس کی مثال بھی کسی اور جگہ نہیں مل سکتی تو اس کامیابی اور کامرانی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔