تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 55
۵۵ ہے جیسے حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جماعت احر و کا مقصد وحید قرار دیا ہے اور اسی مقصد کی تکمیل میں اپنی بساط کے مطابق حصہ لینا" الفضل کا پہلا اور آخری فرض ہے۔اس فرض کو حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات اور ہدایات کی روشنی میں سر انجام دینے کی کوشش کی بجائے گی۔انشاء اللہ " الفضل لاہور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دنیا پہ ظاہر کرنے اور اُسے اپنی عملی صورت میں دنیا ئیراق تم کرنے کی کوشش کرے گا۔” الفضل " لاہور سماعت احمدیہ اور اس کے اندرونی نظام کو حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالے کی ہدایات کی روشنی میں مضبوط سے مضبوط اتم بنانے کی کوشش کرے گا اور احباب جماعت کو سلسلہ کی اہم ضروریات سے آگاہ کریگا۔کیونکہ یہی نظام دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد بننے والا ہے۔" اس وقت مسلمان جبس نازک دور میں سے گزر رہے ہیں اور سہندوستان اور پاکستان " میں مسلمانوں کے لئے ہو اہم اور پیچیدہ مسائل پیدا ہو چکے ہیں اُن کے سلسلے میں ” الفضل" حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالٰی کے اہم اور گرانقدر ارشادات اور ہدایات کو جلد سے جلد اپنے قارئین تک پہنچانے کا فردینہ ادا کرے گا۔اس وقت ملک میں جو ہولناک فسالت شروع ہیں الفضل انہیں دور کرنے اور امن و امان کی فضا پیدا کرنے کی پوری کوشش کرے گا جماعت احمدیہ کے مسلمہ انہوں کے مطابق "الفضل قیام امن کے لئے اور دیگر اہم امور کے سلسلہ میں حکومت کے ساتھ پورا پورا تعاون کرے گا اور اس سلسلہ میں حکومت کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرے گا۔احتساب سے درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ " الفضل" ملک و قوم کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکے اور اپنے اعراض و مقاصد میں کامیاب کہے جائیں" حضور کی ہدایت پر مولانا تنویر صاحب ابناب شیخ خورشید احمد صاحب اور مکرم احمد مین صاحب کا تب و تبوک ستمبر یہ بہش کو قادیان سے لاہور پہنچے۔اُن دنوں لفضل کے مینجر جناب چوہدری عبد الواحد صاحب (سابق مدیم اصلاح سرینگہ تھے اور طابع و ناشر قاضی عبدالحمید صاحب بی اے ایل ایل بی مقرر ہوئے طباعت گیلانی الیکٹرک پریس ہسپتال روڈ میں ہوتی تھی۔اخبار کا ابتدائی کام مسجد اڈو کے سامنے ایک کے بھی میں نہایت بے سرسامانی میں شروع کیا گیا۔بعدازاں دفتر پہلے رتن باغ میں پھر خار پیش کو پنجاب نیشنل بنک (فیٹ نمبر ۳) میں منتقل ہو گیا۔۱۸ار امان ماریچ