تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 50 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 50

رکھتے ہوئے حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب اور دیگر علما اسلسلہ کو اور وہ لوگ جن کے ہاتھ میں کلیدی کام ہیں ان کو جلد سے جلد قادیان سے نکالنے کی کوشش کی جائے حضور کے خاندان کے متعلق مجلس مشاورت نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ان سب کو نکال لیا جائے لیکن حضور کا اپنا خیال یہ ہے کہ خاندان کے افراد میں سے بھی مقررہ حصہ ضرور قادیان میں رہنا چاہئیے اور ان کے علاوہ ایک جوان بھی باری باری سے۔جو انتظام کا ذمہ دار ہو۔دوسروں میں سے بھی بجتنے افراد جماعت رکھنا چاہیے رکھ سکتی ہے۔لیکن خاندان کے افراد اسی نسبت سے آئیں گے تیس نسبت سے باقی جماعت کے افراد۔وہاں رہنے والے افراد کے متعلق یہ صورت اختیار کی جائے کہ اول تمام جوان یعنی ۱۸ سال سے ۵۵ سال کی عمر کے لوگوں میں سے یہ قرعہ کے ذریعے منتخب ہوں اور پہلی دفعہ یہ وہاں ٹھہریں ان کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے اور اپنے کام کے لئے رہتا چاہے وہ بھی رہ سکتا ہے ایک وقت میں نہلا سے بارہ سوتک ہوئی قادیان میں رہنے چاہئیں۔اس وقت باہر سے ہ سو آدمی گیا ہوا ہے۔قادیان سے کچھ سات سو آدمی صرف لینا پڑے گا۔مجلس شوری کا ہو فیصلہ ہے اس کی بناء پر تہم نے صرف قادیان کی آبادی سے بندیعہ قرعہ والنٹیرز لیتے ہیں اور ہے باہر سے قادیان میں بھیجوانے ہیں۔اس لئے مجب مزید کمک قادیان پہنچ جائے گی تو قادیان کی آباد کیا کے ۳۰۰ - ۲۰۰ کے قریب آدمی رو بھائیں گے پس آپ حضور کے حکم اور مجلس شوری کے اجلاس منعقدہ نے ستمبر کی روشنی میں فوری کاروائی کرائیں ، آپ جو تم اس بارہ میں اُٹھا ئیں اُس سے مطلع فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔آپ کا حافظ و ناصر ہو۔آپ کو اس لیے لکھا جاتا ہے تا جماعت سے آپ اچھی طرح مشورہ کر لیں۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب خود امیر ہونے کی وجہ سے شاید حجاب کریں۔مکم عرض ہے کہ لوگوں کے قلوب میں یہ بات زمن نشین کر دینی چاہیئے کہ کیوں ان افراد کا نکال لینا ضروری ہے مخلص احباب تو سلسلہ کے ہر فیصلہ کے آگے سر جھکا دیتے ہیں لیکن کمزور لوگوں کو بھی ساتھ لینا ہمارا فرض ہے۔اور یہ واضح کر دیا بھائے کہ جس قربانی کا ان سے مطالبہ ہے وہی حضرت مسیح موعود کا خاندان اور دوسرے کارکن پیش کریں گے۔یعنی افراد کی تعداد کے مطابق اُن میں سے