تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 49 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 49

مزید فیصلہ ہوا کہ ۴۹ و تمام جماعتیں اپنے ۱۸ سال سے ۵۵ سال کی عمر کے مردوں کی فہرست بنا کہ ان کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر دیں اور یا حصہ آدمی قرعہ ڈال کر فوراً قادیان کی حفاظت کے لئے بھیجوا دیں“ حضرت سیدنا الصلح الموعود نے الفصل “ لاہور کے پہلے شمارہ (صفحہ ۲) میں احباب جماعت کو اس ضروری فیصلہ کی طرف خاص توجہ دلاتے ہوئے تحریمہ فرمایا :- ر" قادیان سے دفاتر اور کارکنوں کا ایک بڑا حصہ فوراً نکلوانا ضروری ہے۔گذشتہ تین ماہ سے انہوں نے دن رات کام کیا ہے اور سب کام سلسلہ کے بند ہیں۔اس لئے فوراً نئے فیصلہ کے ماتحت باہر سے آدمی جانے چاہئیں۔قادیان کی مرد آبادی کا یا ہر وقت قادیا رہے گا۔اس طرح قادیان پر پھر بھی دوسروں سے زیادہ بوجھ رہے گا۔یہ وقت دیمہ کا نہیں فوراً اس انتظام کے ماتحت آدمی بھیجوائیے۔اس میں مرضی کا سوال نہیں۔جبرا ہر شخص کو یہ خدمت دینی ہوگی اور تین ماہ تک یہ خدمت کرنی ہوگی۔ہر تین ماہ کے بعد یہ ڈیوٹی بدلتی ہیگی ہے اہل قادیان کو مجلس شوری کے فیصلہ سے باخبر کرنا اور ایک خاص نظام کے تحت ان کے انخلاء اور پاکستان میں منتقل کئے بجانے کی تدابیر کا انتیار کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا جس کو طے کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب ناظر اصلی پاکستان نے ر تبوک ستمبر برش کو مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابو العطاء صاحب کو حساب ذیل مکتوب لکھا : " آپ کو علم ہو گیا ہوگا کہ مخلص مشاورت کے خاص اجلاس نے جو کہ ستمبر کو ہوا تھا یہ فیصلہ کیا تھا کہ قادیان کی حفاظت کے لئے صرف ایک ہزار یا اس سے کچھ کم و بیش نوجوان افراد کو رکھنا چاہئیے۔باقی آبادی کو قادیان سے نکال لیا جائے۔یہ فیصلہ اس بناء پر کیا گیا تھا کہ وہ علماء و اکا بر سلسلہ جو کہ ہماری تیس چالیس سالہ مساعی کا پھل ہیں اگر خدانخواستہ تباہ یا ضائع ہو جائیں تو ان کی جگہ دوسروں کو لینے کے لئے ایک عمر چاہئیے اور اگر یہ پیشبند کا بھی فوری طور پر نہ کی گئی تو سلسلہ کی ترقی ایک لمبا عرصہ کے لئے پیچھے بجا پڑے گی۔اس فیصلہ کو مد نظر له " الفضل" ۱۵ تبوک ستمبر مش صفحه ۲ :