تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 431 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 431

ہو گا۔خلیفہ کو سارے مسلمانوں پر حکومت حاصل ہوتی ہے۔اور وہ صرف حکومت کا ہیڈ نہیں ہوتا بلکہ مذہب کا بھی ہیڈ ہوتا ہے۔پاکستان کے ہیڈ کو نہ دوسرے ملکوں کے مسلمان تسلیم کریں گے اور نہ علماء مذاہب کے مسائل میں اس کو اپنا سینڈ ماننے کے لئے تیار ہوں گے۔اس لئے خلافت کے اصول پر اس کی اصول تو مقرر کئے جا سکتے ہیں۔مگر نہ وہ خلیفہ ہو سکتا ہے نہ خلافت کے سارے قانون اس پر چسپاں ہو سکتے ہیں۔خلافت کے اصول یہ ہیں :- دا، اس کا تقرب انتخابی ہو اس انتخا کے کئی طریق میںلیکن اس تفصیل میں جانے کی اس وقت گنجائش نہیں)۔(۲) وہ مملکت کے کام مشورہ سے چلائے دمشورہ کے لئے اسلام کے تین اصول ہیں۔عام مسلمانوں سے مشورہ لینا۔یعنی یورینیم چند تر به کارلوگوں سے مشورہ لینا یعنی اگر ٹیٹو باڈی مسلم تو موت کے منتخب نمائندوں کو مشورہ لینا جیسے آجکل کی پارلیمنٹس ہوتی ہیں یہ تین طریقے رسولالہ صلی اللہ علی وسلم کے عمل سے ثابت ہیں لیکن جہاں تیک خلافت کا سوال ہے خلیفہ موہ لینے کا پابند ہے مشورے پر حل کرنے کا پابند نہیں۔پس اگر سوفی صد کی خلافت کے اصول پر پاکستان کا آئین بنایا جائے تو حکومت کا ہیڈ ایگز یکٹ کا بیڈ ہوگا۔ایگزیکٹو کا انتخاب اس کی اپنے اختیار میں ہو گا وہ تمام ضروری امور میں پبلک کے نمائندوں سے مشورہ لے گا لیکن ان مشوروں پر کاربند ہونے کا پابند نہیں ہوگا لیکن می پہلے بتا چکا ہوں کہ پاکستان کا پیٹ خلیفہ نہیں ہوگا۔کیونکانہ سالی اسلامی حکومتیں اس کو پید تسلیم کر یں گی نہ علماء اس کو مذہبی ہیں تسلیم کریں گے۔اس لئے ہم خلافت کے پس پردہ ہو اصول کار فرما ہیں ان سے روشنی تو حاصل کر سکتے ہیں ان کی پوری نقل نہیں کر سکتے اور چونکہ خوفت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک دنیا کی سب مسلمان حکومتیں اور افراد اس انتخاب پر متفق نہ ہو جائیں یا اکثریت متفق نہ ہو جائے اور یہ ناممکن ہے اسے یہ کہنا کہ پاکستان کا آئین اساسی اسلام پر مبنی ہو درست نہیں ہیں طرح انگریزی حکومت کے ماتحت نہیں شریعیت کئے وہ احکام نافذ کرنے کا اختیار نہ تھاجو حکومت کے متعلق تھے اور ہم اس کی وجہ سے گنہگار نہیں تھے۔اسی طرح اسلامی آئین حکومت چونکہ خلافت سے تعلق رکھتا ہے اور خلافت کا قیام مسلمان افراد اور حکومتوں کی اکثریت کے اتفاق کے بغیر ناممکن ہے اس لئے اگر ہم اس نظام کو قائم نہیں کرتے تو ہم ہرگز خدا تعالی کے سامنے مجرم نہیں کیونکہ اس نظام کے قائم کرنے کے لئے جو شر میں اسلام نے مقرر کی ہیں وہ شہر میں اس وقت پوری نہیں ہوتیں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی حکومت اسلامی اثر سے بالکل آزاد ہو ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہرنہ نہیں جو چیز ہمارے اختیار می نہ ہو اس کے پھوڑنے میں تو ہم حق بجانب کہلا سکتے ہیں لیکن جو چیز مار سے اختیار میں ہو اسے