تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 32
۳۲ کارکن کے لئے شدید مطالبہ ہو رہا تھا۔آپ نے مجھے ان کے پاس بھیج دیا۔ناظر صاحب انخلاء نے مجھے فرمایا کہ دو تین چوہڑے لے کر سیمنٹ بلڈنگ کو صاف کراؤ اور جو مٹروں کے لئے مغالباً دو تین روپے بھی دیئے۔وہاں جا کر دیکھا تو ہر منزل ، ہر کمرہ سیڑھیاں غرض ہر جگہ کو مہاجرین نے واقعی بیت الخلاء بنا رکھا تھا اور خوفناک تعفن پیدا ہو چکا تھا خاکسار اور دونوں خاکروبوں نے مل کر دو اڑھائی گھنٹے میں صفائی کی اور پھر دفتر آکر پورے پیش کی۔بعد ازاں ناظر صاحب انخلاء مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب نے مجھے ناظر صاحب اعلیٰ کے پاس بھیجوا دیا۔حضرت نوان ان صاحب کو میں نے سارا واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا۔مجھے سخت فکر اور غم لگا ہوا تھا کہ سیمنٹ بلڈنگ میں خلافت کے باعث بچے اور عورتیں کسی بیماری کا شکار نہ ہو جائیں۔اب مجھے اطمینان ہو گیا ہے۔اس وقت آپ کا دلر با بستم اور جذبات اتقاء کا اختلاط عجیب قسم کا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ کے دل و دماغ پر جہاں درج ہجرت کا جانگدازہ احساس مستولی ہے وہاں خدا کے مامور رسول کی تخت گاہ اور راحت بھرے نشمین سے دست قدرت کے اُڑائے ہوئے طیور کی آسائش و آرام اور بہبودی کا جذبہ بھی موجزن ہے۔آپ ان دنوں انضباط اوقات کو دفتر میں بالکل ملحوظ نہ رکھتے تھے بلکہ ایک لحاظت جو ہیں گھنٹے کی ڈیوٹی سر انجام دیتے تھے کیونکہ سارا دن مختلف دفتروں میں مختلف امور کے متعلق سرکاری حکام یا دیگر لوگوں سے ملاقاتیں کرنا پڑتی تھیں اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ابھی آکر بیٹھے ہیں کہ ایک فون آگیا جس کو سُنتے ہی پھر چلے گئے یا حضرت اقدس ایڈا اللہ بنصرہ العزیز نے کسی ہنگامی کام کے لئے بلوا بھیجا۔اس طرح عشاء کے وقت تک تو میں نے عموماً آپ کو کام کرتے دیکھا۔آپ کی طبیعت میں عجیب قسم کا سکون ، تحمل ، بردباری، کیفیت اتقاء حسن صورت و سیرت ، جذبه اخوت و ہمدردی اور مفوضہ فرائض کی سرانجام دہی میں انتھک سعی اور استغراق پا یا بھاتا تھا۔غالباً دو تین دن اپنے دفتر میں رکھنے کے بعد حضرت نواب صاحب نے مجھے حضرت نواب محمد دین صاحب کی خدمت میں بھیج دیا جو اُن دنوں ناظر دعوت و تبلیغ تھے۔اس سے پہلے