تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 420
الم أعوذ با الله من الشيطن الرحيمي بسم الله الرحمن الرحيمة محمدية ونفسيتي على رسوله الكريمين حوال چندرا کے فضل اور رسم کے ساتھ امیر پاکستان کا مستقبل نباتی مدرکی بیوانی اور معنوی دولت کے لحاظ سے میں نے اور تاریخ کو مینار ہال میں اس مضمون پر ایک تقریر کی تھی۔چونکہ وقت کم تھا اور مضمون زیادہ۔اسکے کئی حصے بیان کرنے سے رہ گئے تھے اور کئی کھول کر بیان نہ ہو سکے۔چونکا سنتے اور پڑھنے میں فرق ہوتا ہے۔پڑھتے وقت انسان زیادہ نمد سے کام لے سکتا ہے۔اور محقر اشاروں کو بھی بجھ سکتا ہے۔اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنی لکھی ہوئی مختصر یاداشت کو شائع کردوں تا کہ مضمون کا ایک مکمل نقشہ بھی نہین میں آجائے۔اور یادداشت کے طور پر بھی ان لوگوں کے ہاتھ میں رہے جو اس میں بیان کردہ مضامین پر مزید غور کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان کا مستقبل بحیثیت نباتی دولت کے" ملک کی حفاظت اور اس کی ترقی کے لئے سختی اور تعمیری لکڑی کا وجود نہایت ضروری ہے۔سوختنی لکڑی کوٹے کا بھی کام دے سکتی ہے۔پرانے زمانہ کے تمام بڑے شہروں کے اردگرد سوختنی لکڑی کے رکھ بنائے جاتے تھے۔یہاں سے شہروں کو لکڑی جہیا کی جاتی تھی۔اور قصبات میں زمینداروں کے ذمہ لگایا جاتاتھا کہ دہ درخت لگائیں اور انہیں چھوٹے درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔تاکہ کٹڑی ضائع نہ ہو۔ہر گاڑی میں اتنے درخت ہوئے جاتے تھے کہ اس گاؤں کی سوختنی اور تعمیری ضرورتیں ان سے پوری ہوسکتی تھیں۔انگریز چونکہ ایک صنعتی ملک کے رہنے والے ہیں ان کی حکومت کے زمانہ میں دیہات کی اقتصادی اور ی حالت کی طرف توجہ ہوگئی۔اور شہروںکی طرف توجہ بڑھ گئی اسی پر ان نظام قائم رہ سکا اور درخت کٹتے کھنے اور سنگے ہوئے اور مسلمان بھی ہندوؤں کی نقل میں جانور کا گو ر چولہوں میں جلانے لگے۔حالانکہ گوری کا بلانا صفائی کے لحاظ سے بھی اور زراعتی لحاظ سے بھی نہایت مضر ہے۔بائیکل میں یہودیوں کی سزا کے متعلق آتا ہے۔کہ تم انسان کے پاخانہ سے روٹی پکا کر کھاؤ گے۔احد قیل بابت آیت اگریہ ہی انسانی پاخانہ کا ذکر ہے گر جانور کا پاخانہ بھی تو گندی شے ہے وہ نسبتاکم بوادر اسکی روٹی پکائی بھی یقیناً ایک سزا ہے۔ی حوالہ کے سابق گو بر کا وہو میں استعمال خدائی سزا اور قوم کی خدمت کی علامت ہے۔پس مسلمانوں کو اس سے بچنا