تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 419
دام اپنے اس امر پربھی بیدن در دیاکہ ملک کی زرعی ترقی کی طرف وجودی جائے۔کیونکہ پاکستان میں اس میدان میں بڑے وسیع ذرائع ہیں کیونکہ اضلاع شاہ پور سرگودھا، جھنگ من ظفر گڑھ اور شمال مغربی سرحد کے بعض علاقے اور تقریبا سارے سندھ کا علاقہ بہت جلد ترقی یافتہ خطوط پر مل در آمد کرنے سے زرعی دولت پیدا کر سکتے ہیں۔ایسی طرح پاکستان کا علاقہ معدنی دولت سے بھی مالا مال ہے مثلاً کوئٹہ ، سکہ پٹرولیم ، ابرک وغیرہ معدنیات سے استفادہ کا کام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔معدنیاتی وسائل کی مکمل مرد سے پیمائش داختر انش کا کام وقت کا اہم تقاضا ہے۔مثلاً بلوچستان کے علاقے میں پٹرولیم کی بہتات تھی لیکن ابھی تک نتیجہ خیز بیماش و افزائش کی کوئی اش نہیں کی گئی۔پاکستان کی قومی لیبارٹری فاضل مقر نے ایک ایسی قومی لیبارٹری کے قیام کی تجویز پیش کی ہیں میں تجارتی صنعتی زرعی اور فاری ملک کی ضروریات پر تحقیقات اور ریسرچ کا کام ہو۔آجکل پاکستان میں کسی جگہ بھی ایسی لیبارٹری نہیں ہے کا یہ فاضلانہ پیکر مسلسل دو گھنٹے تک جاری رہا۔جو پاکستان کے مستقبل کے موضوع کے سلسلے میں پہل تھا۔آئندہ لیکچر دن کے اوقات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا یہ ھے ویر بھارت : انس بیکو کی بازگشت ہندوستان میں بھی سنائی دی۔چنانچہ امرتسر کے اخبارہ دیر بھارت نے امریکہ اور پاکستانی کے عنوان سے اس پر حسب ذیل شمندرہ لکھا :۔احمدیوں کے خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود احمد نے 4 ارب ڈالر کے اس قرضہ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ہجو پاکستان امریکہ سے لینا چاہتا ہے۔مرزا صاحب کا خیال ہے کہ اس طرح پاکستان اقتصادی اور سیاسی این حجار لیک اسید نا اصلح الموعود نے اس دوسرے سیکو کے لئے قیمتی و الفضل در فتح ربیبر ریش) دوسرا پھر میں شائع کہ ادیتے تھے جو ذیل میں بجنسہ نقل کئے جاتے ہیں :۔ے ایسٹرن ٹائمز ۳ پیمبر نه مسا (ترجمه) 511985 دیر بھارت امرت سر ۱۳ رد عمبر نه به