تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 408
مادم ان کا اختیار کی تودنیاکی کوئی تو انکے مقابل ہی شہری نہیں سکتی۔اور پاکستان کا مستقبل نہایت شاندا نہ ہو سکتا ہے۔اس سے ھو کر یہ کہ حضور پاکستان کو عالمگیر اسلامستان کی بنیاد تصور فرماتے تھے اور اس بنیاد کو اپنے مقدس ہاتھوں سے مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جانا اب آپ کی زندگی کا نصب العین بن چکا تھا جوکسی محہ اور لحظہ بھی آپ کی آنکھوں سے ارد ھیل نہیں ہوتا تھا۔جماعت احمدیہ جیسی آپ نے رحمانی پیشوا اور مذہبی لیڈر تھے دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت تھی جس کو نہایت قیامت خیز صورت حال سے دوچارہ ہو کہ اپنے پیارے مرکز سے محروم ہونا پڑا تھا اور اس کی مرکزی نظم ونسق اور اس کے افراد بات کی بحالی کا سخت مشکل ، پیچیدہ اور مکھی مرحلہ در پیش تھا جو کے دوران آپ کی مصروفیات جو ہمیشہ غیر معمولی رہتی تھیں انتہا تک پہنچ چکی تھیں مگراس کے باوجود استحکام پاکستان کے لئے آپ کا علی قلمی جہاد برابر جاری رہتا تھا۔" چنا نچہ پہلے توحضور نے پاکستان کے ضروری مسائل پر قلم اٹھایا ازاں بعد ملک کے مد بردن ، دانشوروں اور سیاسی ز قومی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو براہ راست اپنے خیالات سے آگاہ کر نے کے لئے لاہور میں نہایت فاضلی و پرکاری معلومات افزاء اور بہیمیت افرد ر لیکچروں کا ایک سلسلہ جاری فرمایا جو رماه فتح بر دسمبر یہ پیش سے لے کر دار 194ء د اہ صبح / جنوری بش تک نہایت کامیابی سے بھاری رہا جو آپ کی حیرت انگیز فہم وفراست کا شاہکار تھا اور جسے تاریخ پاکستان میں ہمیشہ سنگ میل کی حیثیت حاصل رہے گی۔لیکچروں کی موضوعات لیکچروں کے اس سلما میں منشور نے مندرجہ ذیل سائی پر روشنی ڈالی :۔(۱) پاکستان کا مستقبیل و ناع، زراعت اور صنعت کے لحاظ سے ادا رفتی دیر پیشی (۲) پاکستان کا مستقبل نباتی زرعی یوانی در معنوی دولت کے لحاظ ست ، رفت و کبر نمایش (۳) پاکستان کا مستقبل معنوی دولت کے لحاظ سے (۳) فتح دسمبر )۔(۲) پاکستانی کامستقبل اس کی بہکی ، فضائی اور بحری دفاعی طاقت کے لحاظ سے ۲۰ فتح ادی بر ا - (۵) بحری طاقت اور سیاست کے لحاظ سے پاکستان کا د فارغ در ماه صبح انوری ماه پیش) (4) پاکستان کا آئین از ارماه صلح جنوری ہ ہیں۔(۶) خرامه صدارت کریرانی نیاین ا ا ا ا ا ار ہال کالج میں ہوئے اور آخری لیکچر یونیورسٹی ہال میں ہوا۔ان لیکچروں میں بالترتیب مدر جہ ذیل قومی شخصیتوں نے صدارت کے فرائض انجام دیتے۔(۱) جسٹس محمد منیر صاحب - (۲) ملک فیر و زیان صاحب نون -