تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 25 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 25

۲۵ ده احسان جون ۱۳۳ ش) فرمایا :- ۶۱۹۴۸ سرحد والے اگر تبلیغ کے لئے مبلغ مانگتے ہیں تو انہیں لڑکے دینے پڑیں گے ورنہ یہ سمجھا بجا دے گا کہ تبلیغ سے ان کو دلچسپی نہیں (۲۲) تبوک ستمبر یه مش فرمایا :- یہ قانون بنایا جائے کہ جب کوئی افسر باہر جائے تو اپنے پروگرام کی ایک کاپی دفتر میں دے کر جائے اور اگر بعد میں اس کی تبدیلی کی ضرورت پیش آئے تو بذریعہ تار دفتر میں اطلاع دے۔(۳) را خادر اکتوبر اش) فرمایا : مش ۶۱۹۴۸ شہروں اور قوموں کی آبادی بغیر تکلیف کے نہیں ہوتی۔دیکم صلح / جنوری پیش فرمایا :- ۱۹۴۹ رپورٹرز کو بیان دینے میں بہت احتیاط سے کام لیں۔اگر فوری طور پر بیان دینا مشکل ہو۔یا ایسا سوال ہو کہ نہیں پر رپورٹ غلط فہمی پیدا کر سکتا ہو تو کہ دینا چاہیئے کہ ابھی اس معاملہ میں غور نہیں کیا گیا۔(۱۵) / ره ۵ در صلح جنوری له ش فر مایا : کارکنان کو رخصت رعایتی جبرا دی بجایا کرے تا دماغ تازہ ہو بجایا کریں۔حضور نے اپنی دعوتوں کے متعلق فرمایا کہ ان کی اصل غرض تبادلہ خیالات کا موقعہ بہم پہنچانا ہوتی ہے اس لئے میزوں اور کرسیوں کی ترتیب اس رنگ میں ہونی چاہئیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بات چیت کرنے کا موقعہ مل سکے۔صلح جنوری ۱۳۳ ش) فرمایا :- پریس تاروں کی عبارت ایسی ہونی چاہیئے جسے خبر تسلیم کیا جا سکے۔فرمایا۔اونچے طبقہ کے سنجیدہ اور اثر لینے والے لوگوں کو تبلیغی نکتہ نظر سے بار بار ملنا چاہیے اور انہیں لٹریچر دینا چاہیے۔بیرونی مشنوں میں INSPECTING مبلغ بھیجوانے چاہئیں جن کے دورہ کے وقت مقامی حکام و معزز افراد کی دعوت کے انتظام کے ذریعہ تبادلہ خیالات کا موقعہ بہم پہنچایا جائے۔