تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 353
۳۵۲ بہر حال مخصوص که نا ضروری ہے۔اس پر انہوں نے احمدی نمائندوں سے خود بھی پوچھنا شروع کیا کہ مستقبل سے متعلق ان کی کیا پالیسی ہے ؟ احمدی نمائندوں نے انہیں بتایا کہ اگر ہیں یہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تب بھی اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے مناسب تعداد ہم میں سے ضرور موجود رہے گی۔ابتداء میں جب جماعت کی طرف سے کہا گیا کہ یہاں رہنے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہوگی تو ملٹری کے افسروں نے کہا کہ ہزار تو بڑی تعداد ہے۔اگر اس سے کم لوگ یہاں رہیں اور وہ بھی ادھیڑ عمر کے تو غور کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی خود بخود گفتگو کا محوربن گیا کہ احمدیوں کو اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے کس قدر حلقہ درکار ہو گا ؟ آخر مدار ماه اضاور اکتوبر تار میش کو قادیان میں درویشانہ زندگی گزارنے والے احمدیوں کی حدود آبادی پر ملٹری کے ذمہ دار آفیسر لیفٹینٹ کرنل) اور احمدی نمائندوں کا اتفاق رائے ہو گیا۔جب کے مطابق احمدی محلہ کا محل وقوع حسب ذیل تھا :- شمال میں مکان حضرت سید ناصر شاہ صاحب - قصر خلافت۔دفاتر صدر انجمن احمدیر مرکز یه - دفتر خر یا شاید مکان مکرم مدد خان صاحب - مکان حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی - جلسہ گاہ قدیم - جنوب ہیں۔محلہ ناصر آباد - بہشتی مقبرہ - بارغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام - مشرق میں۔مکرم نیک محمد خان صاحب مکرم مولوی عبد المنی خالصاحب اور مکرم امتیاز علی صاحب کے مکانات - مغرب میں مسجد فضل سٹرک ڈسٹرکٹ بورڈ بطرف میں کلاں۔مکان مو نوی عبد الحق صاحب بدو ملہوی - - مسجد اقصی - مولانا جلال الدین صاحب شمسی نے (جو ان دنوں امیر مقامی کے فرائض انجام دے رہے تھے) سید نا المصلح الموعود کی خدمت میں لکھا :۔آج شام در در اکتو بہ کو تین بجے لیفٹینٹ کرنل صاحب ، ڈی ایس پی صاحب مجسٹریٹہ صاحب علاقہ ، ہزارہ سنگھ صاحب مع لیفٹیننٹ کیانی تشریف لائے۔صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مرزا عبدالحق صاحب اور خاکسار نے ان سے ملاقات کی۔نقشہ قادیان پر دہ علاقہ دکھایا گیا جسکی حفاظت احمدی چاہتے ہیں۔مجسٹریٹ صاحب علاقہ کے سوا اور کسی نے ہماری مخالفت نہ کی۔کرنل صاحت بنے ہماری تجویز سے اتفاق کیا۔رستوں میں غیرمسلموں اور سکھوں کے آنے بھانے کے متعلق ذکر کیا حضرت صاحبزادہ صاحب نے کہا ہمیں کوئی اعتراض نہیں کر دہ بھی ہمار سے رستوں میں آتھے بجاتے رہیں۔