تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 23
۱۳۲۷ تبلیغ فروری سایر پیش فرمایا یہ دیکھا جائے کہ یورپ میں ہمارے لئے کون کون سی چیز ضروری ہے۔مثلاً عیسائیت کے وہ سوال چین کا علم ہونا چاہیئے۔پھر مولوی محمد دین صاحب اور ملک غلام فرید صاحب سے پتہ کیا جائے کہ ان کے ساتھ وہ کیا سوالات کرتے تھے۔پھر ایک قسم کے متعلقہ سوالات کی ایک کتاب لکھی بجائے۔یہ دیکھا جائے کہ اس سے ہم نفع کیسے حاصل کر سکتے ہیں یا کم از کم بغیر نقصان کے چلا سکتے ہیں۔اصول یہ ہونا چاہیئے کہ کتاب چھپوا کر مبلغین کو لکھا بھائے کہ جتنی کتاب مانگو گے ہم بھیجیں گے اور تم اتنی ہی مانگو گے جتنی چھ ماہ میں فروخت ہو سکے۔اس کی قیمت چھ ماہ میں قسط وار وضع کریں گے۔واقفین میں سے پانچ ایسے تیار کئے بھائیں جو زود نویس بنائے جائیں۔الفضل کے لئے بھی اسی طرح واقفین میں سے تیار کئے جائیں جن کا ادبی مذاق ہو۔ہر مبلغ ہو اخبار لیتا ہے اس کا فرض ہے کہ اہم مضامین کے کٹنگ وہ بھیجے۔۴۸ ۲۶ شہادت / اپریل بیش فرمایا :- د تحریک جدید میں ایک پبلک سروس کمیشن مقرر کیا جائے جو کام کرنے والوں کی نگرانی کرے۔باہر کے مبلغین کو وہاں ہی آزاد نہ کیا جائے بلکہ ایسے آدمیوں کو یہاں لا کو تین پھار ماہ رکھا جائے۔اگر کام کے لائق ہوں تو کام لیا جائے ورنہ فارغ کر دیا جائے۔ایک چیز ہے جس پر اگر زور ہو تو میرا خیال ہے کہ جماعت تباہی سے بچ جائے گی وہ نماز کی باجماعت ادائیگی ہے۔اس سے وقت کی پابندی لازم ہوگی اور پھر اس سے ہر کام ہر وقت ہو گا ر بحت رمئی ۱۳۲ پیش فرمایا : لوگوں کے ذہن میں اس وقت یہ ہے کہ مقبرہ بہشتی ہاتھ سے نکل گیا ہے لہذا وصیت کی ضرورت نہیں۔لہذا چاہئیے کہ انہیں سمجھائیں کہ اس کے معنی یہ نہیں کہ وصیت ختم ہو گئی حضور علیہ السلام نے تو خود فرمایا ہے کہ باہر دفن ہو سکتا ہے وہاں اس کا نام لکھ دیا جائیگا ویسے بھی سب کا وہاں دفن ہونا ہی محال ہے کیونکہ اتنی جگہ ہی نہیں کیں سمجھتا ہوں کہ آیندہ ہمیں قرعہ اندازی کرنی پڑے گی۔مثلاً ایک مقام پر جب تو آدمی فوت ہو جائیں تو ان میں سے