تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 325
۳۲۴ می کو ایک پریس کا نفرنس منعقد کی جس کی روداد اختبار زمیندار نے حسب ذیل الفاظ میں شائع کی :- کشمیر کو ہر قیمت پر پاکستان میں شامل کیا جائے مرزا بشیر الدین امیر جماعت احمدیہ کا بیان لاہور ۷ار اکتوبر۔مرزا بشیر الدین محمود احمد نے کل ایک پریس کا نفرنس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان یا ہندوستان میں ریاست ہائے کشمیر و حیدر آباد کی شمولیت کا فیصلہ بیک وقت ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ خواہ حکمران یا خواہ عوام کو شمولیت کے فیصلے کا مجاز قرار دیا جائے۔لیکن دونوں ریاستوں کے فیصلہ کا معیار ایک ہی ہونا چاہیئے۔مرزا صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کا پاکستان میں شامل ہونا اشد ضروری ہے کیونکہ اگر کشمیر مہندوستان میں شامل ہو گیا تو پاکستان کی سرحد پانچ سو میل لمبی ہو جائیگی اور حملے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت پاکستان اس سلسلے میں مؤثر اقدام کرے گی۔آپ نے ہر دو حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ انہیں مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے آپس میں معاہدہ کرنا چاہئیے۔“ سے مسئلہ کشمیر کے فوری حل کیلئے | محضور انور نے حکومت پاکستان اور عوام دونوں پر اپنا مندرجہ بالا نقطہ نگاہ نمایاں کرنے کے لئے "کشمیر اور حیدر آباد" کے الفضل میں فضل مضمون ہش کی اشاعت میں شائع ہوا۔حضور نے حیدر آباد اور کشمیر کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا۔حیدر آباد اور کشمیر کے سوال متوازی ہیں اور ایک کا فیصلہ دوسرے کے فیصلہ کے ساتھ بندھا ہوا ہے جب تک ان میں سے کوئی ایک حکومت فیصلہ نہیں کرتی۔اس وقت تک پاکستان کے ہاتھ مضبوط ہیں۔عقلی طور پر ان دونوں ریاستوں کے فیصلے دو اصول میں سے ایک پر مبنی ہو سکتے ہیں یا تو اس اصل پر کہ جدھر راجیہ جانا چاہے اس کو اجازت ہو۔اگر یہ اصل تسلیم کر لیا جائے تو حیدر آباد پاکستان میں شامل ہو سکتا ہے یا آزادی کا اعلان کر کے لے زمیندار ۱۹ار اتحاد اکتوبر ش صفحه ۵ * " عنوان سے ایک مفصل مضمون رقم فرمایا جو الفضل ۱۹ اخارا کتوبه