تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 303 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 303

٢-٣ مگر ایسا نہیں ہوا۔یہ ملک انڈونیشیا ، ایسے سینیا اور سعودی عرب ہیں۔انڈونیشیا دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے جس میں مسلمانوں کی آبادی چھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔پھر اس کا مقام وقوع ایسی جگہ پر ہے کہ اس کے تعلقات آئندہ پاکستان کی ترقی اور حفاظت میں بہت کچھ محمد ہو سکتے ہیں لیکن جبکہ ہندوستان یونین اس کے ساتھ تعلق بڑھا رہی ہے پاکستان حکومت نے اب تک پوری بعد و جہد سے کام نہیں لیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان کو مسلمان سے پیار ہے اور وہ ایک دوسرے سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن سیاسی معاملات کچھ ایسے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ دوست دشمن بن جاتے ہیں اور دشمن دوست بن جاتے ہیں اور صرف مذہبی اتحاد کو سیاسی اتحاد کا پورا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔۔۔۔دوسری خبر اسی سلسلہ میں ہمیں یہ ملی ہے کہ اب تک سعودی عرب سے بھی تعلقات پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔حالانکہ سعودی عرب وہ ملک ہے میں میں ہمارا مقدس مقام مکہ مکرمہ اور ہمارا قبلہ گاہ بیت اللہ اور ہمارے آقا کا مقام محبت اور مدفن مدینہ منورہ واقعہ ہیں۔ہم خواہ کسی مذہب اور فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں ہم اُن مقامات کی طرف سے اپنی نظریں نہیں ہٹا سکتے اور جس حکومت کے ماتحت بھی یہ مقامات ہوں اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنا ہمارا ضروری فرض ہے کیونکہ مسلمانوں کا حقیقی اتحاد مگر مگریہ اور مدینہ منورہ کے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے۔تیسری شکایت ہمیں یہ پہنچی ہے کہ ایسے سیفیا میں ہندوستان کی آزادی کا دن منایا گیا اور ہندوستانی جھنڈے تقسیم کئے گئے اور خوشی سے ایسے سینیا کے لوگوں نے ہندستانی جھنڈے لہرائے لیکن پاکستان کی آزادی کا دن نہ منایا گیا اور نہ پاکستان کے جھنڈے وہاں ہرائے گئے۔ایسے سینیا کے شاہی خاندان کا ایک حصہ مسلمان ہے۔اور بعض زیر دست فوجی قبائل بھی مسلمان ہیں۔وہ اس نظارہ کو دیکھ کر بہت مایوس ہوئے اور ایسے سینیا کے ہندوستانی ڈاکٹر جو اتفاقا احمدی ہے سے پوچھا کہ یہاں پاکستانی جھنڈے کیوں نہیں آئے اور پاکستان کی طرف سے ہم لوگوں کو خوشی میں شامل ہونے کا موقع کیوں نہیں دیا گیا۔وہ سوائے افسوس کے اور کیا کر سکتا تھا۔اب اس نے پاکستان کو لکھا