تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 292 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 292

۲۹۰ صاحب جھنگ کی خدمت میں انگریزی میں ایک درخواست دی گئی جس کا اردو ترجمہ یہ ہے :- رتن باغ۔لاہور ار اکتوبر ۱۹۴۷ مرد ر صاحب ضلع جھنگ جناب عالی ! قادیان (مشرقی پنجاب) کا قصبہ جماعت احمدیہ کا مرکز ہے اور اس لحاظ سے بیحد اہمیت رکھتا ہے کہ اس کی شاخیں تقریباً تمام دنیا میں قائم ہیں۔جماعت احمدیہ کی نیت یہی تھی کہ باوجود ملک کی تقسیم کے قادیان ہی جماعت کا مرکز رہے۔لیکن سکھوں کے متواترہ ملے اور ان جملوں میں ہندوستانی فوج اور پولیس کی امداد کی وجہ سے قادیان کے اکثر باشند وں کو بالجبر اور بالا کراہ اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ادھر سہندوستانی فوج کے احکامات کے تحت جماعت احمدیہ کے ڈگری کالج ، ہائی سکول اور جامعہ احمدیہ کی عمارات کو خالی کرایا گیا۔ڈگری کالج کی عمارت کو سکون نیشنل کالج کی تحویل میں دے دیا گیا اور نوری ہسپتال کی عمارت و بھی یا نجیب خالی کرایا گیا۔ان اقدامات کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقریبا دس ہزار سے زائد آبادی کو اپنے آبائی گھروں سے ہاتھ دھونا پڑا۔قادیان کی یہ آبادی ان ہزار ہا باشندوں کے علاوہ تھی جو مقام حکومت کے مظالم سے تنگ آکر ترک وطن پر مجبور ہوئے تھے۔جناب ! قادیان کے یہ ہزاروں باشندے اپنا تمام اثاثہ اور گھر بار چھوڑ کر پاکستان میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ان میں تمام پایشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔اہل علم بھی ہیں، انجنیر بھی اور تاجر اور مزدور طبقہ کے علاوہ اہل فن اور حرفت و صنعت کے ماہر بھی۔آج جماعت کو ضرورت ہے کہ انہیں آباد کرنے کے لئے ایک ایسا خطہ حاصل کیا جاوے جہاں پہلے تو ابتدائی رہائش گا میں تعمیر ہوں اور پھر انہیں پختہ رہائش گا ہوں میں تبدیل کر کے ایک قصبہ کی شکل دے دی جائے۔ه یه درخواست در اکتوبر کو یعنی ایک دن پہلے ہی ٹائپ کرائی گئی تھی ؟